
Bitcoin کی منافع بخش سپلائی 60 فیصد کے قریب، مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار
Bitcoin کی سپلائی منافع بخشیت 60 فیصد کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جو مارکیٹ میں بحالی کے اشارے دیتی ہے مگر ماہرین محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

Bitcoin کی سپلائی منافع بخشیت 60 فیصد کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جو مارکیٹ میں بحالی کے اشارے دیتی ہے مگر ماہرین محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

پولی مارکیٹ پر ایک اکاؤنٹ کی جانب سے کروڑوں ڈالر کی سٹے بازی کے بعد پلیٹ فارم کی شفافیت اور مارکیٹ ہیرا پھیری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بٹ کوائن مائننگ پول پولن نے امریکہ میں چیپٹر 11 دیوالیہ پن کی درخواست دائر کر دی ہے۔ اس عمل کا مقصد کمپنی کے مالی معاملات کو بہتر بنانا اور قرض دہندگان کو ادائیگی کے لیے ٹیکساس میں موجود مائننگ سائٹس کو 52 ملین ڈالر میں فروخت کرنا ہے۔

Ripple نے 23 جولائی کو اپنا نیا پلیٹ فارم Ripple Mint لانچ کیا ہے، جو اداروں کو RLUSD سٹیبل کوائن کے انتظام کے لیے ایک وقف ویب انٹرفیس فراہم کرتا ہے۔

یورپی یونین نے بیلاروسی شہریوں کے لیے MiCA فریم ورک کے تحت ریگولیٹڈ کرپٹو اداروں میں ملکیت اور انتظامی کردار ادا کرنے پر پابندی لگا دی ہے، جس کا مقصد مالیاتی پابندیوں کو مزید سخت کرنا ہے۔

SpaceX نے موسمی حالات کے پیش نظر اسٹار شپ کی 13ویں ٹیسٹ فلائٹ ملتوی کر دی ہے، جس کا اثر نجی ایکویٹی مارکیٹ میں کمپنی کی ویلیو ایشن پر بھی پڑ رہا ہے۔


امریکی اسپاٹ بٹ کوائن ETFs سے 15 جولائی کو 225 ملین ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا، جس سے سات دنوں سے جاری سرمایہ کاری کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ اس تبدیلی نے مارکیٹ کے جذبات میں عارضی ٹھہراؤ کی نشاندہی کی ہے۔

26 اکتوبر 2024 کو ایران میں ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل دیکھی گئی، جس نے کرپٹو مارکیٹ کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Ripple نے RLUSD کی فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے Notabene کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جس کا مقصد ریگولیٹری تعمیل کو مضبوط بنانا ہے۔

امریکی سینیٹ میں Clarity Act کا نیا مسودہ پیش کیا گیا ہے جو وفاقی حکام کے لیے کرپٹو اثاثوں کی تشہیر پر پابندی لگاتا ہے اور نان کسٹوڈیل ڈویلپرز کو تحفظ فراہم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔

عالمی سٹیبل کوائن مارکیٹ نے 300 ارب ڈالر کی حد عبور کر لی ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان میں موجود کرپٹو صارفین کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

سٹیبل کوائنز کیسے کام کرتے ہیں اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ان کی اہمیت کیا ہے؟ اس رپورٹ میں ہم ان ڈیجیٹل اثاثوں کے میکانزم اور مقامی مارکیٹ پر ان کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔



امریکی حکام نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی فراڈ اسکیموں سے حاصل کردہ 25 ملین ڈالر سے زائد کی کرپٹو کرنسی ضبط کر لی ہے۔ یہ کارروائی محکمہ انصاف کی جانب سے پانچ الگ الگ مقدمات کے بعد کی گئی ہے۔

جمعرات کو عالمی ٹیک مارکیٹ میں 800 ارب ڈالر کی گراوٹ دیکھی گئی، تاہم بٹ کوائن 65,000 ڈالر کے قریب مستحکم رہا۔

امریکی سینیٹ میں پیش کردہ CLARITY ایکٹ کا مقصد سرکاری حکام کے کرپٹو اثاثوں کے استعمال پر ضوابط لاگو کرنا ہے، جس کے عالمی منڈیوں اور پاکستانی سرمایہ کاروں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مقامی کرپٹو مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جہاں بٹ کوائن 1.50 فیصد کمی کے بعد 18,077,369 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

Uber نے اپنی کسٹمر سروس ٹیم میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی جانب سے ٹیکنالوجی پر مبنی خودکار نظاموں کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی ایس ای سی ستمبر میں 24 گھنٹے اسٹاک ٹریڈنگ کے امکانات پر غور کرے گی۔ یہ اقدام عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ٹریڈنگ کے اوقات بڑھانے کی خواہش کے بعد سامنے آیا ہے، جو کرپٹو مارکیٹ کے 24/7 ماڈل سے مماثلت رکھتا ہے۔

ایس ای سی کمشنر ہیسٹر پیئرس نے 24 اکتوبر 2024 کو خبردار کیا کہ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) پلیٹ فارمز کو امریکی سیکیورٹیز قوانین کی پاسداری کرنی ہوگی، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Bitcoin ne $65,800 se oopar apni position barqarar rakhi hai, jiske peechay spot ETFs mein lagataar 6 dinon se jari inflows ka hath hai.

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تازہ ترین مالیاتی دستاویزات میں کرپٹو کرنسی منصوبوں سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد کی آمدنی ظاہر کی ہے، جس سے ڈیجیٹل اثاثوں کی عالمی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔