
PVARA چیئرمین کا اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے عالمی فریم ورک کا مطالبہ
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے عالمی سطح پر متفقہ ضوابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے عالمی سطح پر متفقہ ضوابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے پالیسی میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں 70 عالمی ایکسچینجز نے ملک میں کام کرنے کے لیے لائسنس کی درخواست دی ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 70 کمپنیوں نے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرنے کے لیے درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کو ڈیجیٹل اثاثوں کے کاروبار کے لیے 70 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو ملک میں کرپٹو مارکیٹ کو باقاعدہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے حال ہی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی تاکہ ہانگ کانگ کے ڈیجیٹل اثاثوں کے ریگولیٹری فریم ورک سے سیکھے گئے اسباق پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 40 ملین کرپٹو اکاؤنٹس موجود ہیں، جو ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک منظم نگرانی کا نظام وضع کر لیا ہے، جس کا مقصد مقامی کرپٹو ایکو سسٹم کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے۔

پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کے لیے اپنا نیا ریگولیٹری فریم ورک چھ ماہ سے کم عرصے میں مکمل کر لیا ہے، جس کا اعلان PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ میں کیا ہے۔

پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کے لیے باضابطہ ریگولیٹری فریم ورک کا آغاز کر دیا ہے۔ PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق، یہ عمل انتہائی کم بجٹ میں مکمل کیا گیا ہے جس سے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے کاروبار کے لیے ایک نیا قانونی راستہ ہموار ہوگا۔

پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ نظام کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت تمام کرپٹو ایکسچینجز کو 5 ستمبر تک این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو باقاعدہ بنانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنا آفیشل ورچوئل اثاثہ لائسنسنگ پورٹل لانچ کر دیا ہے۔

پاکستان کی ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) نے ورچوئل اثاثہ فراہم کرنے والوں (VASPs) کے لیے ایک لازمی لائسنسنگ فریم ورک نافذ کیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔


پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لیے کسی باقاعدہ لائسنسنگ فریم ورک کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو مقامی سطح پر کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے۔


وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے کرپٹو کرنسی سے متعلق مالی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا ہے، جس کا مقصد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنا ہے۔

PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اثاثہ جات سے منسلک ڈیجیٹل ٹوکنز اور قیاس آرائی پر مبنی کرپٹو کرنسیوں کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے مذہبی رہنمائی طلب کی ہے۔

Ethereum Foundation نے 4 اکتوبر 2023 کو EthSystems کے نام سے ایک نئے ادارے کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد بینکنگ سیکٹر کے لیے خصوصی پرائیویسی ٹیکنالوجی بنانا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے ٹوکنائزڈ فنانس کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد عالمی مالیاتی منڈیوں میں ضوابط کو ہم آہنگ کرنا ہے۔