24 گھنٹے ٹریڈنگ کی جانب منتقلی

امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے ستمبر میں ہونے والے اجلاسوں کا ایک سلسلہ شیڈول کیا ہے جس میں 24 گھنٹے اسٹاک ٹریڈنگ کے نفاذ اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ کوائن ٹیلی گراف (Cointelegraph) کے مطابق، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب نیس ڈیک، سی بوئے اور لندن اسٹاک ایکسچینج جیسے بڑے عالمی مالیاتی ادارے اپنے روایتی کاروباری اوقات کو بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

فی الحال عالمی مالیاتی نظام مقررہ اوقات پر منحصر ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ بند ہونے کے اوقات میں لیکویڈیٹی کا خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس تبدیلی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے ٹریڈنگ سے قیمتوں کے تعین میں بہتری آئے گی اور اہم خبروں پر فوری ردعمل دینا ممکن ہوگا۔ یہ ارتقاء کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے آغاز سے ہی 24/7 بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔

روایتی مالیات اور ڈیجیٹل اثاثوں کا ملاپ

اسٹاک مارکیٹس کی جانب سے 24 گھنٹے ٹریڈنگ کی طرف ممکنہ پیش قدمی روایتی مالیات اور ڈیجیٹل اثاثوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ربط کو ظاہر کرتی ہے۔ مسلسل ٹریڈنگ ماڈل کو اپنا کر اسٹاک ایکسچینجز دراصل اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہیں کہ جدید سرمایہ کار کسی بھی وقت اپنے پورٹ فولیو کا انتظام کرنا چاہتے ہیں۔ اس تبدیلی سے مارکیٹ کھلنے کے وقت ہونے والی غیر معمولی اتار چڑھاؤ میں کمی آ سکتی ہے کیونکہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ اچانک ہونے کے بجائے بتدریج ہوگی۔

تاہم، یہ منتقلی چیلنجوں سے خالی نہیں ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء نے لیکویڈیٹی کے بکھرنے، آپریشنل اخراجات میں اضافے اور غیر روایتی اوقات میں سخت نگرانی کی ضرورت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ریگولیٹرز کو اب مارکیٹ کی کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اثرات

پاکستان میں کرپٹو ہولڈرز اور سرمایہ کاروں کے لیے 24 گھنٹے اسٹاک ٹریڈنگ کی جانب عالمی منتقلی فوری مالیاتی رسائی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) فی الحال مخصوص اوقات میں کام کرتی ہے، لیکن عالمی سطح پر 24/7 ٹریڈنگ کا رجحان مقامی تاجروں کے لیکویڈیٹی اور مارکیٹ تک رسائی کے تصور کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر بین الاقوامی منڈیاں مسلسل کھلی رہتی ہیں تو عالمی بروکرز استعمال کرنے والے پاکستانی سرمایہ کاروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ٹیکس قوانین اور تعمیل کے حوالے سے پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید برآں، روایتی مالیات میں 24/7 ٹریڈنگ کا انضمام اس بات پر بحث کو جنم دے سکتا ہے کہ ملک کے اندر ڈیجیٹل اثاثوں کی تجارت کیسے کی جائے۔ چونکہ PVARA فریم ورک کے تحت مقامی ضوابط مسلسل ارتقاء پذیر ہیں، اس لیے پاکستانی سرمایہ کاروں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عالمی رجحانات اکثر مقامی پالیسیوں میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی پلیٹ فارمز تک رسائی اب بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سخت فارن ایکسچینج کنٹرولز کے تابع ہے، لہذا صارفین کو اپنی سرگرمیوں کو مقامی قوانین کے مطابق رکھنا چاہیے۔

آگے کا راستہ

ستمبر میں ہونے والے اجلاس عالمی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔ آیا 24 گھنٹے کا مکمل سائیکل نافذ ہوگا یا نہیں، یہ دیکھنا باقی ہے، لیکن یہ ارادہ ایک زیادہ مربوط اور قابل رسائی مالیاتی منظرنامے کی جانب واضح اشارہ ہے۔ فی الحال، مارکیٹ کے مبصرین ایس ای سی کی جانب سے اس منتقلی کے لیے تجویز کردہ ضوابط اور حفاظتی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی منڈیوں کے 24 گھنٹے دستیابی کی جانب بڑھنے کے ساتھ، پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ٹریڈنگ سرگرمیوں کو قانونی دائرہ کار میں رکھنے کے لیے مقامی ریگولیٹری اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں۔