
مائیکرو اسٹریٹیجی کے بٹ کوائن ذخائر 845,000 BTC سے تجاوز کر گئے
مائیکرو اسٹریٹیجی نے 369.7 ملین ڈالر مالیت کے مزید بٹ کوائن خرید لیے ہیں، جس سے کمپنی کے کل ذخائر 845,050 BTC تک پہنچ گئے ہیں۔

مائیکرو اسٹریٹیجی نے 369.7 ملین ڈالر مالیت کے مزید بٹ کوائن خرید لیے ہیں، جس سے کمپنی کے کل ذخائر 845,050 BTC تک پہنچ گئے ہیں۔

مائیکرو اسٹریٹجی نے 370 ملین ڈالر مالیت کے 4,603 BTC خرید کر اپنی بٹ کوائن جمع کرنے کی حکمت عملی دوبارہ شروع کر دی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں ادارہ جاتی اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔

Arbitrum پر مبنی Robinhood Chain نے 24 گھنٹوں میں 2.66 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کر کے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔

روس کا سب سے بڑا بینک Sberbank اب Ethereum اور USDT کو قرض کے لیے بطور ضمانت قبول کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو کہ عالمی سطح پر ادارہ جاتی کرپٹو اپنانے کی ایک اہم مثال ہے۔

آئرلینڈ کی حکومت نے اپنی نئی سرکاری بچت اور سرمایہ کاری کی اسکیم سے کرپٹو کرنسیوں اور ان سے متعلقہ ڈیریویٹوز کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ستمبر میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے بٹ کوائن کی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے، جس سے عالمی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔


امریکہ میں لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار اور روس کی ڈیجیٹل روبل کی جانب پیش رفت کرپٹو مارکیٹ کے مستقبل کا تعین کر رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں عالمی مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل اثاثوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہم ہیں۔

اگست کے اختتام پر بٹ کوائن 78,000 ڈالر کے قریب تجارت کر رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی عالمی سطح پر مضبوطی اور شرح سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔

روس نے کرپٹو ایکسچینج کے لیے نئے ضوابط کا اعلان کیا ہے جو یکم ستمبر 2026 سے نافذ ہوں گے، جس سے مارکیٹ میں اربوں ڈالر کی لیکویڈیٹی آنے کی توقع ہے۔

بٹ کوائن کے معروف ڈویلپر لیوک ڈیش جے آر نے OCEAN مائننگ پول سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ یہ فیصلہ بٹ کوائن مائننگ کے مستقبل کے حوالے سے بنیادی اختلافات کے بعد کیا گیا ہے۔

Zcash نے اپنی نئی کرپٹوگرافی اسٹیک کے ذریعے پرائیویٹ ٹرانزیکشنز کی رفتار کو 3 سیکنڈ سے کم کر کے 200 ملی سیکنڈ سے نیچے پہنچا دیا ہے، جو کہ موبائل صارفین کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔

اگست میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران بٹ کوائن نے غیر معمولی استحکام دکھایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثے روایتی اسٹاک مارکیٹ سے الگ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔




مقامی کرپٹو مارکیٹ میں آج سست روی دیکھی گئی ہے۔ بٹ کوائن 0.25 فیصد کمی کے ساتھ 21,631,068 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ ایتھریم کی قیمت میں 1.62 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔

امریکی اسپاٹ بٹ کوائن ETFs میں مسلسل نو دن کی سرمایہ کاری کے بعد 28 اگست کو 201.9 ملین ڈالر کا انخلا ریکارڈ کیا گیا، جس سے مارکیٹ کے رجحان میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔

مائیکرو اسٹریٹیجی، جو دنیا میں بٹ کوائن رکھنے والی سب سے بڑی کارپوریٹ کمپنی ہے، نے دو ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ خریداری کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے عالمی سطح پر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

Chainalysis نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف 95 ملین ڈالر کے بلاک چین اینالیٹکس معاہدے پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں حریف کمپنی TRM Labs کے انتخاب کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔

مائیکرو اسٹریٹیجی نے نومبر کے اوائل میں Bitcoin کے اپنے ذخائر کو بڑھانے کا عندیہ دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

گلوبل پیمنٹ نیٹ ورک Swift نے بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنے سسٹم میں شامل کرنے کے لیے تجربات شروع کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سالانہ 1.5 کواڈرلین ڈالر کے لین دین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

بینک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، عام سرمایہ کاروں کا رجحان اب بٹ کوائن کو بطور 'ڈیجیٹل گولڈ' رکھنے کے بجائے اسے مائیکرو انویسٹمنٹ اور روزمرہ کی مالیاتی ضروریات کے لیے استعمال کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
