عالمی ادائیگیوں کا ارتقاء
عالمی مالیاتی پیغام رسانی کا مرکزی نظام Swift، اپنے وسیع انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کا تجربہ کر رہا ہے۔ یہ نیٹ ورک، جو سالانہ تقریباً 1.5 کواڈرلین ڈالر کے لین دین میں سہولت فراہم کرتا ہے، اس وقت دباؤ کا شکار ہے کیونکہ وکندریقرت ٹیکنالوجیز (decentralized technologies) تیز اور سستی متبادل پیش کر رہی ہیں۔ CoinDesk کے مطابق، یہ ادارہ اپنے 11,500 اداروں پر مشتمل نیٹ ورک کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی (DLT) پر فعال طور پر کام کر رہا ہے۔
فرسودگی پر بحث
بلاک چین پر مبنی ادائیگی کے نظام کے عروج نے مالیاتی شعبے میں ایک بڑی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ کچھ کرپٹو ماہرین کا استدلال ہے کہ نئی بلاک چین ٹیکنالوجی روایتی بینکنگ کے درمیانی مراحل کو ختم کر کے Swift کو غیر متعلقہ بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پبلک یا پرمیشنڈ لیجرز کی کارکردگی اور شفافیت اس پرانے ماڈل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جسے Swift نے دہائیوں سے برقرار رکھا ہوا ہے۔
اس کے برعکس، بہت سے ادارہ جاتی بینکرز کا ماننا ہے کہ Swift کے پاس وہ پیمانہ اور ریگولیٹری اعتماد موجود ہے جو ان ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے لیے ضروری ہے۔ بلاک چین پروٹوکولز کو اپنے موجودہ فریم ورک میں ضم کر کے، Swift سیکیورٹی اور تعمیل کے معیارات پر سمجھوتہ کیے بغیر ٹوکنائزیشن اور فوری تصفیے (settlement) کے فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ حکمت عملی Swift کو روایتی مالیات اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل اثاثوں کی معیشت کے درمیان ایک پل کے طور پر پیش کرتی ہے۔
پاکستان کے لیے مضمرات
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور کاروباری افراد کے لیے، Swift کا یہ ارتقاء سرحد پار ترسیلاتِ زر اور تجارت کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ چونکہ پاکستان مسلسل غیر ملکی زر مبادلہ کے پیچیدہ ضوابط اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی نگرانی میں کام کر رہا ہے، اس لیے بلاک چین پر مبنی تصفیے کی طرف کوئی بھی تبدیلی بالآخر بین الاقوامی منتقلی کی لاگت کو کم کر سکتی ہے۔ تاہم، مقامی صارفین کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ یہ پیش رفت فی الحال ادارہ جاتی بینکنگ انفراسٹرکچر پر مرکوز ہے، نہ کہ ریٹیل کرپٹو پلیٹ فارمز پر۔
فی الحال، پاکستانی صارفین جو مقامی ایکسچینجز یا پیئر ٹو پیئر پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، وہ ان تکنیکی تبدیلیوں سے کافی حد تک محفوظ ہیں۔ اگرچہ عالمی بینکنگ میں بلاک چین کا انضمام بالآخر پاکستان میں سرمائے کی نقل و حرکت کو ہموار کر سکتا ہے، لیکن یہ فی الحال مقامی ریگولیٹری ماحول یا Prevention of Electronic Crimes Act کے تحت کرپٹو اثاثوں کی حیثیت کو تبدیل نہیں کرتا ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ یہ عالمی انفراسٹرکچر اپ گریڈز ملک میں مستقبل کی بینکنگ پالیسیوں پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
آگے کی راہ
Swift کی اس تبدیلی میں کامیابی کا انحصار اس کی جدت اور عالمی مالیاتی استحکام کے سخت تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت پر ہے۔ اگر یہ ادارہ کامیابی کے ساتھ بلاک چین کو ضم کر لیتا ہے، تو یہ فیاٹ اور ٹوکنائزڈ اثاثوں دونوں کے لیے بنیادی سہولت کار کے طور پر اپنی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ آنے والے سال یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا کا سب سے بڑا مالیاتی نیٹ ورک کامیابی کے ساتھ وکندریقرت مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے، یا اسے اسی ٹیکنالوجی سے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا جسے وہ اب اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ تبدیلیاں براہ راست ریٹیل کرپٹو مارکیٹ کو متاثر نہیں کر رہیں، لیکن یہ مستقبل میں بین الاقوامی بینکنگ اور ترسیلاتِ زر کے طریقوں میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔













