سٹیبل کوائنز کا کاروباری استعمال Velocity، جو ڈیجیٹل اثاثوں کے انفراسٹرکچر میں مہارت رکھنے والا ایک فن ٹیک سٹارٹ اپ ہے، نے حال ہی میں 38 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے۔ اس سرمایہ کاری میں Dragonfly، FirstMark، اور Coinbase Ventures جیسے بڑے نام شامل ہیں، جن کا مقصد کارپوریٹ ٹریژری اور ادائیگی کے نظام میں سٹیبل کوائنز کو ضم کرنے کے لیے سافٹ ویئر حل تیار کرنا ہے۔
Cointelegraph کے مطابق، یہ کمپنی روایتی مالیاتی نظام اور بلاک چین پر مبنی اثاثوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ Velocity کا مقصد ایسے انفراسٹرکچر کی فراہمی ہے جو کاروباروں کے لیے سرحد پار ادائیگیوں اور لیکویڈیٹی کے انتظام میں حائل رکاوٹوں کو کم کر سکے۔
ٹریژری کے کاموں میں بہتری Velocity کی بنیادی توجہ ایسے مضبوط ٹولز کی تیاری پر ہے جو انٹرپرائزز کو آپریشنل کارکردگی کے لیے سٹیبل کوائنز استعمال کرنے کی سہولت دیں۔ بہت سی کمپنیاں اب ادائیگی کے چکروں کو تیز کرنے اور روایتی بینکنگ کے مقابلے میں لین دین کی لاگت کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کی تلاش کر رہی ہیں۔
صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پروگرام کے قابل رقم (programmable money) کی مانگ بڑھ رہی ہے کیونکہ کاروباری ادارے اپنے مالیاتی آپریشنز میں زیادہ شفافیت چاہتے ہیں۔ اسمارٹ کنٹریکٹس اور سٹیبل کوائن ریلز کے ذریعے ٹریژری مینجمنٹ کو خودکار بنا کر، Velocity روایتی وائر ٹرانسفرز کا ایک قابل توسیع متبادل فراہم کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان کے لیے اثرات پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور کاروباروں کے لیے، انٹرپرائز گریڈ سٹیبل کوائن انفراسٹرکچر کا عروج ڈیجیٹل تصفیہ کی جانب ایک عالمی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستانی ضوابط کرپٹو سے فیئٹ میں براہ راست تبدیلی کے حوالے سے محتاط ہیں، لیکن سٹیبل کوائن پیمنٹ ریلز کی ترقی مستقبل میں مقامی کاروباروں کے لیے بین الاقوامی ترسیلاتِ زر یا B2B ادائیگیوں کے طریقہ کار کو متاثر کر سکتی ہے۔
فی الحال، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں پر سخت نگرانی رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مقامی اداروں کو مقامی قوانین کی تعمیل کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔ پاکستانی صارفین کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اگرچہ عالمی انفراسٹرکچر ترقی کر رہا ہے، لیکن مقامی مالیاتی پالیسیوں اور PVARA کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کے منظر نامے کو واضح کرنے کی کوششوں کے پیش نظر ان ٹولز تک رسائی ابھی محدود ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ Velocity کے لیے یہ کامیاب فنڈنگ راؤنڈ سٹیبل کوائن پر مبنی مالیاتی مصنوعات کے لیے مضبوط ادارہ جاتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی پختہ ہوگی، یہ امکان ہے کہ مزید کمپنیاں ان ٹولز کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں شامل کرنے کی کوشش کریں گی، جس سے عالمی تجارت اور کارپوریٹ فنانس کے نئے معیارات قائم ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کار اور کاروباری ادارے اس بات پر گہری نظر رکھیں گے کہ یہ انفراسٹرکچر پلیٹ فارمز مختلف ممالک کے پیچیدہ ریگولیٹری ماحول میں کیسے کام کرتے ہیں۔
پاکستانی قارئین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر سٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی افادیت مستقبل میں مقامی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے، لہذا مقامی ضوابط سے باخبر رہنا ضروری ہے۔














