Progmat کی جانب سے بلاک چین انفراسٹرکچر میں توسیع
جاپان کے معروف سیکیورٹی ٹوکن پلیٹ فارم Progmat نے اپنے تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کو Avalanche بلاک چین پر منتقل کر دیا ہے۔ The Block کی رپورٹ کے مطابق، Progmat فی الحال جاپان کی سیکیورٹی ٹوکن مارکیٹ میں جاری کردہ کل قدر کا 64.6 فیصد حصہ سنبھالتا ہے۔ یہ انضمام پلیٹ فارم کے ڈیجیٹل اثاثوں کے انتظام کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
مارکیٹ میں پوزیشن اور انفراسٹرکچر
Progmat جاپان میں سیکیورٹی ٹوکن انفراسٹرکچر فراہم کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے۔ Avalanche بلاک چین کا استعمال کرتے ہوئے، یہ پلیٹ فارم اپنے موجودہ اثاثوں کی بنیاد کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنی تکنیکی کارروائیوں کو ہم آہنگ کر رہا ہے۔ اس اقدام میں پلیٹ فارم کے زیر انتظام اثاثوں کے ایک بڑے حصے کو نئے نیٹ ورک آرکیٹیکچر پر منتقل کرنا شامل ہے۔ یہ پیش رفت جاپان کے مالیاتی شعبے میں پلیٹ فارم کے مستحکم کردار کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں اس نے سیکیورٹی ٹوکن مارکیٹ میں اکثریت حاصل کر رکھی ہے۔
تکنیکی پہلو
سیکیورٹی ٹوکن کے شعبے میں کام کرنے والے پلیٹ فارمز اکثر لین دین کی رفتار اور نیٹ ورک کی صلاحیت کی بنیاد پر بلاک چین نیٹ ورکس کا انتخاب کرتے ہیں۔ Progmat کا Avalanche کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پلیٹ فارم کو سیکیورٹی ٹوکن کے بڑے پیمانے پر لین دین کے انتظام کے لیے مخصوص ضروریات درکار ہیں۔ یہ اقدام ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جہاں مالیاتی ادارے ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثوں کے اجرا اور انتظام کے لیے مختلف بلاک چین پروٹوکولز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے اہمیت
جاپان کے ایک بڑے پلیٹ فارم کی جانب سے Avalanche کا انضمام عالمی سطح پر ادارہ جاتی بلاک چین کے اختیار کیے جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اسٹیک ہولڈرز کے لیے، یہ پیش رفت ایک کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتی ہے کہ کس طرح بڑے مالیاتی پلیٹ فارمز اپنی تکنیکی انفراسٹرکچر کو متنوع بنا رہے ہیں۔ پاکستانی مارکیٹ پر اس کا براہ راست اثر فی الحال بہت کم ہے، کیونکہ مقامی ایکسچینجز بنیادی طور پر ریٹیل کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پر مرکوز ہیں نہ کہ ادارہ جاتی سیکیورٹی ٹوکن کے شعبے پر۔ لہذا، یہ پیش رفت مقامی ریگولیٹری یا تجارتی ماحول میں تبدیلی کے بجائے عالمی مالیاتی رجحانات کی ایک علامت ہے۔
دستبرداری: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سرمایہ کاروں کو ڈیجیٹل اثاثہ پلیٹ فارمز کے ساتھ منسلک ہونے سے پہلے اپنی تحقیق خود کرنی چاہیے۔
پاکستانی قارئین کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اگرچہ عالمی ادارے سیکیورٹی ٹوکنز کے لیے بلاک چین کو اپنا رہے ہیں، تاہم مقامی مارکیٹ ابھی تک مختلف اثاثہ جات اور ریگولیٹری فریم ورک پر مرکوز ہے۔













