مارکیٹ کا جائزہ
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ میں معمولی بحالی دیکھی گئی ہے۔ بٹ کوائن (BTC) اس وقت 17,882,853 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے جو کہ 1.40 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ایتھریم (ETH) نے بھی اسی رجحان کی پیروی کرتے ہوئے 1.10 فیصد اضافے کے ساتھ 520,417 روپے کی سطح حاصل کر لی ہے۔ دریں اثنا، BNB نے بڑے اثاثوں میں سب سے نمایاں کارکردگی دکھائی اور 2.40 فیصد اضافے کے ساتھ 166,955 روپے تک پہنچ گیا۔ دیگر اثاثوں کی کارکردگی ملی جلی رہی، جس میں سولانا (SOL) 1.30 فیصد اضافے سے 20,596 روپے اور XRP 298 روپے پر مستحکم رہا۔ اس کے برعکس، TRON (TRX) میں 0.50 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی اور قیمت 91 روپے رہی، جبکہ FIGR_HELOC 0.30 فیصد گر کر 279 روپے پر آ گیا۔ HYPE ٹوکن نے 3.10 فیصد اضافے کے ساتھ 15,505 روپے ریکارڈ کیے۔ سٹیبل کوائنز USDT اور USDC کی قیمت 278 روپے پر برقرار ہے جو کہ USD/PKR کے 278.059685 کے ریٹ سے مطابقت رکھتی ہے۔
مارکیٹ کا رجحان
فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس (Fear and Greed Index) اس وقت 27 پر ہے جو مارکیٹ کے شرکاء میں خوف کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بٹ کوائن کا غلبہ 56.5705 فیصد پر برقرار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرمایہ کار موجودہ اتار چڑھاؤ کے دوران اپنا سرمایہ سب سے بڑے ڈیجیٹل اثاثے میں محفوظ رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عالمی ریگولیٹری پیش رفت
بین الاقوامی ریگولیٹری بحثیں وسیع تر مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹرز نے SEC پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرمپ سے منسلک میم کوائن (memecoin) کی تحقیقات کرے۔ مزید برآں، صنعت روبن ہڈ اور کوائن بیس جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے مختلف اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ میں قانون سازی میں تعطل کی وجہ سے کرپٹو کلیئرٹی ایکٹ (Crypto Clarity Act) ابھی تک التواء کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ اخلاقی خدشات بتائے جا رہے ہیں۔
آج کن چیزوں پر نظر رکھیں
پاکستان میں سرمایہ کاروں کی توجہ سٹیبل کوائنز کے PKR کے مقابلے میں استحکام اور عالمی ریگولیٹری خبروں کے مقامی مارکیٹ پر اثرات پر مرکوز ہے۔ چونکہ فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس ابھی بھی خوف کے زون میں ہے، اس لیے مارکیٹ کے شرکاء کو احتیاط برتنے اور عالمی مالیاتی نگران اداروں کی تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
*دستبرداری: یہ رپورٹ صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ نہ سمجھا جائے۔ کرپٹو اثاثے شدید مارکیٹ اتار چڑھاؤ سے مشروط ہیں۔*
