Decentralized Exchanges Hit Record Market Share as Centralized Trading Volume Declines

- ■ ڈی سینٹرلائزڈ ایکسچینجز کا مارکیٹ شیئر ملکی اور عالمی سطح پر نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
- ■ مرکزی ایکسچینجز کے تجارتی حجم میں کمی سرمایہ کاروں کے رویے میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔
- ■ سیکیورٹی اور خود مختاری اب کرپٹو ٹریڈرز کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
یہ مالی مشورہ نہیں ہے۔ کرپٹو اثاثے غیر مستحکم اور زیادہ خطرے والے ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا صرف معلوماتی ہے اور اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
یہ مضمون اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا اور اشاعت سے پہلے ہماری ادارتی ٹیم نے اس کا جائزہ لیا۔
Sources
عام سوالات
- Decentralized exchange (DEX) کیا ہے؟
- Decentralized exchange ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صارفین کسی درمیانی ادارے کے بغیر براہ راست اپنے والٹ سے کرپٹو کرنسی کی تجارت کرتے ہیں۔ یہ نظام سمارٹ کانٹریکٹس پر مبنی ہے جو سیکیورٹی اور خود مختاری کو یقینی بناتا ہے۔
- DEX اور CEX میں کیا فرق ہے؟
- CEX یعنی مرکزی ایکسچینجز پر آپ کے فنڈز کمپنی کے پاس ہوتے ہیں جبکہ DEX پر آپ اپنے فنڈز کے مکمل مالک خود ہوتے ہیں۔ DEX میں ٹریڈنگ براہ راست بلاک چین پر ہوتی ہے جبکہ CEX میں یہ کمپنی کے اپنے ڈیٹا بیس پر ہوتی ہے۔
- لوگ DEX کی طرف کیوں منتقل ہو رہے ہیں؟
- صارفین اپنی پرائیویسی، سیکیورٹی اور فنڈز پر مکمل کنٹرول کی وجہ سے DEX کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مرکزی ایکسچینجز کے حالیہ مسائل اور ریگولیٹری دباؤ نے بھی ٹریڈرز کو ڈی سینٹرلائزڈ پلیٹ فارمز کی طرف راغب کیا ہے۔
CryptoNews.pk Newsroom
Editorial Team
Reporting on crypto in Pakistan in Urdu and English.
مزید پڑھیں

Solana فاؤنڈیشن نے رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافے کے بعد شنگھائی ایونٹ ملتوی کر دیا
سولانا فاؤنڈیشن نے شنگھائی میں ہونے والے اپنے اہم ایونٹ کو رجسٹریشن میں اچانک اور غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ملتوی کر دیا ہے۔

Coinbase، Robinhood اور Marathon Digital کے لیے نئی پریڈکشن مارکیٹس کا آغاز
CoinDesk کی رپورٹس کے مطابق، نئی پریڈکشن مارکیٹس سرمایہ کاروں کو Coinbase، Robinhood اور Marathon Digital کے مالیاتی اہداف پر شرط لگانے کی سہولت فراہم کریں گی۔

Strive Asset Management کا کارپوریٹ بٹ کوائن خزانہ 25,000 BTC تک پہنچ گیا
Strive Asset Management نے 469 مزید بٹ کوائن کی خریداری کے ساتھ اپنے کارپوریٹ خزانے میں 25,000 BTC کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر کارپوریٹ اداروں کی جانب سے بٹ کوائن کو بنیادی ریزرو اثاثہ کے طور پر اپنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔













