ریگولیٹری تبدیلی اور وائز کا لائحہ عمل

لندن میں قائم کراس بارڈر ادائیگیوں کی کمپنی وائز (Wise) امریکہ میں نیشنل ٹرسٹ بینک چارٹر کے لیے اپنی درخواست دوبارہ جمع کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ آفس آف دی کامپٹرولر آف دی کرنسی (OCC) کی جانب سے حال ہی میں درخواست مسترد کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے، جس میں اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی فنانسنگ پروٹوکولز کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ کوائن ٹیلی گراف (Cointelegraph) کی رپورٹ کے مطابق، ریگولیٹر نے کمپنی کے موجودہ تعمیلی فریم ورک میں مخصوص خطرات کی نشاندہی کی تھی جس کی وجہ سے اس مرحلے پر چارٹر کی منظوری نہیں دی گئی۔

اس رکاوٹ کے باوجود، وائز اپنی مستقبل کی درخواست کو مجوزہ GENIUS ایکٹ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ قانون سازی کا فریم ورک ان ڈیجیٹل اثاثوں پر مرکوز اداروں کے لیے ایک منظم راستہ فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے جو وفاقی بینکنگ کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دی بلاک (The Block) نے نوٹ کیا کہ OCC نے دسمبر سے اب تک سٹیبل کوائن پر مرکوز کئی اداروں کو مشروط منظوری دی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریگولیٹری ماحول اب روایتی مالیات اور ڈیجیٹل اثاثوں کے سنگم پر کام کرنے والی فرموں کو جگہ دینے کے لیے تبدیل ہو رہا ہے۔

GENIUS ایکٹ کا مفہوم

GENIUS ایکٹ امریکی ریگولیٹرز کے غیر روایتی مالیاتی اداروں کے جائزے کے انداز میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ سٹیبل کوائن جاری کرنے والوں اور ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے پروسیسرز کے لیے واضح معیارات فراہم کر کے، یہ قانون سازی پرانے بینکنگ تقاضوں اور جدید فن ٹیک اختراعات کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فریم ورک امریکی مالیاتی نظام کی سالمیت کو برقرار رکھنے اور تکنیکی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہیں۔

وائز کے لیے، نیشنل ٹرسٹ بینک چارٹر حاصل کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ کمپنی درمیانی بینکنگ پارٹنرز پر انحصار کیے بغیر براہ راست امریکی صارفین کو مالیاتی خدمات کی وسیع رینج پیش کر سکے گی۔ اس تبدیلی کو ٹرانزیکشن کے اخراجات کو کم کرنے اور بین الاقوامی منتقلی کی رفتار کو بہتر بنانے کے لیے ایک تزویراتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ GENIUS ایکٹ میں بیان کردہ معیارات کو اپنا کر، وائز وفاقی ریگولیٹرز کی جانب سے متوقع سخت نگرانی کے عزم کا اظہار کرنا چاہتی ہے۔

پاکستان کے لیے اثرات

پاکستانی صارفین کے لیے یہ پیش رفت بنیادی طور پر ادارہ جاتی استحکام اور طویل مدتی سروس کے قابل اعتماد ہونے کا معاملہ ہے۔ اگرچہ درخواست کا عمل امریکہ تک محدود ہے، لیکن اس کا نتیجہ اس عالمی انفراسٹرکچر کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں ترسیلات زر کو آسان بناتا ہے۔ ایک کامیاب چارٹر پلیٹ فارم کے استحکام کو بڑھا سکتا ہے، جس سے ممکنہ طور پر ان رکاوٹوں میں کمی آ سکتی ہے جن کا سامنا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رقم گھر بھیجتے وقت کرنا پڑتا ہے۔

تاہم، پاکستانی صارفین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وائز سخت بین الاقوامی تعمیلی معیارات کے تحت کام کرتی ہے۔ امریکہ یا برطانیہ میں ان کی ریگولیٹری حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی ان کی سروس کی شرائط میں اپ ڈیٹس کا باعث بن سکتی ہے، جو پاکستان میں صارفین کے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ فی الحال، سروس کی دستیابی میں کوئی براہ راست تبدیلی نہیں آئی ہے، لیکن صارفین کو اکاؤنٹ کی تعمیلی ضروریات کے حوالے سے سرکاری مواصلات پر نظر رکھنی چاہیے۔ پاکستانی صارفین کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ تمام ڈیجیٹل مالیاتی سرگرمیاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مقامی ضوابط کے مطابق ہونی چاہئیں۔

مستقبل کا ریگولیٹری منظرنامہ

وسیع تر کرپٹو اور فن ٹیک انڈسٹری OCC پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ وہ جدت اور رسک مینجمنٹ کے درمیان توازن قائم کر رہی ہے۔ وائز کی ابتدائی درخواست کا مسترد ہونا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ وفاقی ریگولیٹرز فرم کی مارکیٹ ویلیو یا عالمی رسائی سے قطع نظر، AML اور CFT کی تعمیل کے لیے اعلیٰ معیارات برقرار رکھتے ہیں۔ GENIUS ایکٹ فریم ورک کے تحت دوبارہ درخواست دینے کا اقدام امریکی مارکیٹ کے لیے کمپنی کے طویل مدتی عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

جیسا کہ انڈسٹری مزید پیش رفت کی منتظر ہے، توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا GENIUS ایکٹ ڈیجیٹل اثاثہ بینکنگ چارٹرز کے لیے سنہری معیار بن جائے گا۔ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے، تو وائز دیگر فن ٹیک فرموں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتی ہے جو امریکی بینکنگ سسٹم کے اندر اپنے کام کو باقاعدہ بنانا چاہتی ہیں۔ فی الحال، یہ عمل تیاری کے مرحلے میں ہے کیونکہ کمپنی OCC کی طرف سے نشاندہی کردہ مخصوص تعمیلی خامیوں کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔

پاکستانی صارفین کو چاہیے کہ وہ وائز کے استعمال کے دوران اپنی مالیاتی سرگرمیوں کو مقامی قوانین کے ساتھ ہم آہنگ رکھیں اور پلیٹ فارم کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی نئی پالیسی اپ ڈیٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔