Visa کا اسٹیبل کوائن کی دنیا میں قدم 23 اکتوبر 2024 کو عالمی ادائیگیوں کی کمپنی Visa نے ایک نئے پلیٹ فارم کے اجراء کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل ڈالر کے اجراء، انتظام اور سیٹلمنٹ کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ CoinDesk کے مطابق، اس اقدام کا مقصد روایتی بینکنگ انفراسٹرکچر اور بلاک چین پر مبنی اسٹیبل کوائنز کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے، تاکہ مالیاتی ادارے ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنے موجودہ ادائیگی کے نظام میں محفوظ طریقے سے شامل کر سکیں۔
ادائیگیوں کی کارکردگی میں اضافہ یہ نیا پلیٹ فارم بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کو سرحد پار لین دین اور اندرونی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹیبل کوائنز استعمال کرنے کے ٹولز فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ Visa اپنے وسیع نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے پرانے بینکنگ نظاموں میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنا چاہتا ہے۔ یہ پیش رفت ٹوکنائزڈ اثاثوں اور پروگرام کے قابل رقم میں بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی دلچسپی کے بعد سامنے آئی ہے۔
مسابقتی منظرنامہ یہ پیش رفت Visa کو Circle جیسے بڑے اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں کے ساتھ براہ راست مقابلے میں کھڑا کرتی ہے، جو USDC کے پیچھے کام کرنے والی کمپنی ہے۔ جیسے جیسے مالیاتی ادارے بلاک چین ٹیکنالوجی کی رفتار اور شفافیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انٹرپرائز گریڈ اسٹیبل کوائن حل کی مارکیٹ پھیل رہی ہے۔ Visa کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ بڑے ادائیگی پروسیسرز ڈیجیٹل اثاثوں اور فیاٹ کرنسیوں کے درمیان مطابقت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات پاکستان میں کرپٹو ہولڈرز کے لیے یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسٹیبل کوائنز عالمی سطح پر قدر کی منتقلی کے ایک جائز ذریعہ کے طور پر قبول کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ Visa کا پلیٹ فارم فی الحال ادارہ جاتی شراکت داروں کے لیے ہے، لیکن ڈیجیٹل ڈالر کا وسیع استعمال مستقبل میں ترسیلات زر کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، پاکستانی صارفین کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ FBR اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت مقامی ضوابط ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کے حوالے سے سخت ہیں۔ صارفین کو مقامی تعمیلی تقاضوں پر نظر رکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ساتھ ان کا کوئی بھی تعامل ملکی مالیاتی رہنما خطوط کے مطابق ہو۔
مستقبل کا منظرنامہ جیسے جیسے ڈیجیٹل ڈالر کا بنیادی ڈھانچہ پختہ ہوگا، توجہ ریگولیٹری تعمیل اور سرحد پار سیٹلمنٹ کی رفتار پر مرکوز رہے گی۔ Visa جیسے بڑے کھلاڑی کی جانب سے ایسی ٹیکنالوجی کا انضمام ایک ہائبرڈ مالیاتی نظام کی طرف طویل مدتی منتقلی کا اشارہ ہے جہاں روایتی اور ڈیجیٹل اثاثے ایک ساتھ موجود ہوں گے۔ سرمایہ کاروں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ یہ ادارہ جاتی ٹولز کس طرح ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔
پاکستان کے کرپٹو صارفین کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل اثاثوں کے ارتقاء پر نظر رکھیں لیکن مقامی قوانین کی پاسداری کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔

















