ایجنٹک کامرس کا عروج Visa نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے شعبے 'ایجنٹک کامرس' میں لین دین کے لیے اسٹیبل کوائنز پر انحصار کرے گا۔ The Block کے مطابق، ادائیگیوں کی یہ بڑی کمپنی ایک ایسے ہائبرڈ ماڈل کا تصور پیش کر رہی ہے جہاں روایتی کارڈ ریلز اور بلاک چین پر مبنی اسٹیبل کوائن ریلز مل کر کام کریں گی تاکہ خودکار AI ایجنٹس کے ذریعے انجام پانے والے کاموں کی ادائیگی مکمل کی جا سکے۔

بلاک چین ریلز کا انضمام جیسے جیسے AI ایجنٹس صارفین کی جانب سے پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں، موثر اور پروگرام کے قابل ادائیگی کے طریقوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ Visa کا کہنا ہے کہ اسٹیبل کوائنز ان مائیکرو ٹرانزیکشنز کے لیے ضروری رفتار اور کم لاگت فراہم کرتے ہیں جو یہ ایجنٹس کثرت سے انجام دیں گے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ ایجنٹس روایتی بینکنگ انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں کے بغیر فوری طور پر ادائیگیاں مکمل کر سکتے ہیں۔

ایک ہائبرڈ مالیاتی مستقبل Visa روایتی ادائیگی کے طریقوں کے مکمل خاتمے کی توقع نہیں رکھتا۔ اس کے بجائے، کمپنی ایک ایسے مستقبل کی توقع رکھتی ہے جہاں کارڈ ریلز صارفین کے ساتھ بات چیت کو سنبھالیں گی، جبکہ اسٹیبل کوائنز مشین ٹو مشین ادائیگیوں کے لیے بیک اینڈ انفراسٹرکچر فراہم کریں گے۔ اس دوہری حکمت عملی کا مقصد قائم شدہ مالیاتی نیٹ ورکس کی سیکیورٹی کے ساتھ ڈیجیٹل اثاثوں کی فعالیت کو یکجا کرنا ہے۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات پاکستانی کرپٹو صارفین کے لیے، یہ پیش رفت محض قیاس آرائی پر مبنی تجارت سے ہٹ کر اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے جیسے عالمی ادائیگیوں کی بڑی کمپنیاں ان اثاثوں کو مرکزی دھارے میں شامل کر رہی ہیں، اسٹیبل کوائنز کے ذریعے سرحد پار مائیکرو پیمنٹس یا فری لانس کام میں سہولت کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، پاکستانی صارفین کو مقامی ریگولیٹری ماحول سے آگاہ رہنا چاہیے، کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور FBR مسلسل ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ فی الحال، خودکار کامرس کے لیے اسٹیبل کوائنز کا استعمال ایک ابتدائی تصور ہے جسے مقامی بینکنگ یا ایکسچینج سپورٹ حاصل نہیں ہے۔

آگے کا راستہ AI پر مبنی کامرس میں اسٹیبل کوائنز کا انضمام اس بات کی علامت ہے کہ ادارہ جاتی کھلاڑی ڈیجیٹل اثاثوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ جیسے جیسے AI ایجنٹس روزمرہ کے کاموں میں عام ہوتے جائیں گے، پروگرام کے قابل رقم کی مانگ میں اضافہ ہوگا، جو ممکنہ طور پر عالمی ڈیجیٹل لین دین کے لیے ایک نیا معیار قائم کرے گا۔

پاکستانی قارئین کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ عالمی سطح پر اسٹیبل کوائنز کا استعمال کس طرح مقامی ڈیجیٹل ادائیگی کے ضوابط اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی ٹولز تک رسائی کو متاثر کرتا ہے۔