فنڈنگ راؤنڈ کا جائزہ
3 اکتوبر 2023 کو اسٹیبل کوائن اسٹارٹ اپ Velocity نے اعلان کیا کہ اس نے سیریز اے فنڈنگ راؤنڈ میں 38 ملین ڈالر حاصل کر لیے ہیں۔ The Block کی رپورٹ کے مطابق، اس راؤنڈ کی قیادت وینچر کیپیٹل فرمز Dragonfly اور FirstMark نے کی، جبکہ Coinbase اور Ripple نے بھی اس میں حصہ لیا۔ اس فنڈنگ کا مقصد کمپنی کو ایسے ٹولز تیار کرنے میں مدد دینا ہے جو اسٹیبل کوائن کے استعمال کو روایتی مالیاتی نظام سے مربوط کر سکیں۔
Velocity پلیٹ فارم کا کام
The Block کے مطابق، Velocity ایسا انفراسٹرکچر فراہم کرتا ہے جو کارپوریٹ صارفین کو روایتی بینکنگ چینلز اور تعمیلی نظام (compliance systems) کے ساتھ اسٹیبل کوائنز استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ کمپنی کا مقصد کاروباروں کو ان ڈیجیٹل اثاثوں کو ان کے موجودہ آپریشنز میں ضم کرنے میں مدد کرنا ہے۔ تعمیل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، اسٹارٹ اپ کا ارادہ ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے جو قائم شدہ ریگولیٹری حدود کے اندر ڈیجیٹل کرنسی کے لین دین کو تلاش کرنا چاہتی ہیں۔
انڈسٹری کا تناظر
ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کی سرگرمیاں جاری ہیں کیونکہ فرمز ادائیگیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس فنڈنگ راؤنڈ میں Coinbase اور Ripple جیسے مستحکم اداروں کی شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ وینچر کیپیٹل کا روایتی مالیات اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ملاپ میں گہرا دلچسپی ہے۔ کمپنی فی الحال اپنے پلیٹ فارم کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ اسٹیبل کوائن انٹیگریشن کے ذریعے کارپوریٹ مالیاتی ورک فلو کو سپورٹ کیا جا سکے۔
پاکستان کے لیے اثرات
پاکستانی کاروباروں اور افراد کے لیے، کارپوریٹ اسٹیبل کوائن انفراسٹرکچر کی ترقی بالآخر اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ سرحد پار لین دین (cross-border transactions) کیسے انجام پاتے ہیں۔ تاہم، اس مرحلے پر مقامی مارکیٹ پر اثرات بالواسطہ ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ایک ترقی پذیر ریگولیٹری ماحول میں کام کر رہا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرپٹو کرنسی کے استعمال پر محتاط موقف رکھتا ہے۔ اس لیے، مقامی ایکسچینجز اور کاروباروں کو موجودہ قانونی فریم ورکس کے اندر کام جاری رکھنا ہوگا، جو فی الحال عالمی اسٹیبل کوائن پلیٹ فارمز کو مقامی مالیاتی نظام میں براہ راست ضم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
دستبرداری
یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی یا سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ قارئین کو ڈیجیٹل اثاثہ جات کی خدمات کے ساتھ مشغول ہونے سے پہلے اپنی تحقیق کرنی چاہیے اور پیشہ ور مشیروں سے مشورہ کرنا چاہیے۔
پاکستان میں سرمایہ کاروں اور کاروباروں کو سرحد پار تجارت میں ڈیجیٹل اثاثوں کے انضمام کے مستقبل کے حوالے سے FBR اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مقامی ریگولیٹری اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔













