اسٹریٹجک شراکت داری

دنیا کے سب سے بڑے اسٹیبل کوائن ایشور، Tether نے 24 اکتوبر 2024 کو نیروبی سیکیورٹیز ایکسچینج (NSE) کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنا، حقیقی دنیا کے اثاثوں (Real-world assets) کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لینا اور کینیا کی مارکیٹ میں مالیاتی لین دین کے لیے USDT کو سیٹلمنٹ لیئر کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ Cointelegraph کے مطابق، اس اقدام کا مقصد بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مقامی مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

ٹوکنائزیشن اور مارکیٹ کا بنیادی ڈھانچہ

یہ معاہدہ Tether کے لیے ایک اہم قدم ہے کیونکہ یہ روایتی اسٹیبل کوائن کی افادیت سے نکل کر ادارہ جاتی مالیاتی خدمات کے میدان میں داخل ہو رہا ہے۔ بلاک چین پر مبنی سسٹمز کو مربوط کرکے، NSE سیکیورٹیز کے اجراء اور تجارت کو ہموار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس تبدیلی سے سیٹلمنٹ کے وقت میں کمی آ سکتی ہے اور مارکیٹ میں حصہ لینے والوں کے لیے انتظامی اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔ Tether کے نمائندوں نے نشاندہی کی کہ یہ معاہدہ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنانے کے لیے ضروری تکنیکی فریم ورک فراہم کر کے ایک زیادہ جامع مالیاتی نظام قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کا عالمی تناظر

اثاثوں کی ٹوکنائزیشن میں حقیقی دنیا کے اثاثوں، جیسے کہ اسٹاک، بانڈز یا رئیل اسٹیٹ کی ملکیت کو بلاک چین پر ظاہر کرنا شامل ہے۔ یہ عمل جزوی ملکیت اور 24/7 ٹریڈنگ کی صلاحیتوں کی اجازت دیتا ہے جو روایتی اسٹاک ایکسچینجز میں اکثر موجود نہیں ہوتی۔ بہت سے عالمی مالیاتی ادارے اس وقت لیکویڈیٹی اور رسائی کو بڑھانے کے لیے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی (DLT) کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں۔ افریقہ کی ایک بڑی ایکسچینج کے ساتھ شراکت داری کر کے، Tether خود کو روایتی مالیاتی نظام اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی تحریک میں سب سے آگے رکھ رہا ہے۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اثرات

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، یہ پیش رفت ریگولیٹڈ مالیاتی انفراسٹرکچر کی بنیادی تہہ کے طور پر اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی عالمی قبولیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اگرچہ یہ شراکت داری خاص طور پر کینیا کے لیے ہے، لیکن یہ ایک کیس اسٹڈی کے طور پر کام کرتی ہے کہ کس طرح ترقی پذیر معیشتیں اپنی کیپٹل مارکیٹوں کو جدید بنانے کے لیے بلاک چین کا استعمال کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں، جہاں PVARA جیسے ریگولیٹری فریم ورک ابھی ارتقاء کے مراحل میں ہیں، وہاں ترسیلات زر اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے اسٹیبل کوائنز کا استعمال مسلسل بحث کا موضوع ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو ان بین الاقوامی پیش رفتوں پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ اکثر اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ مرکزی بینک اور مقامی اسٹاک ایکسچینجز مستقبل میں ڈیجیٹل اثاثوں کے انضمام کے حوالے سے کیا حکمت عملی اپنا سکتے ہیں۔ فی الحال پاکستانی روپے یا مقامی ایکسچینج آپریشنز پر اس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہے، تاہم یہ اقدام سرحد پار مالیاتی تصفیہ میں اسٹیبل کوائنز کی افادیت کو ثابت کرتا ہے۔

مستقبل کا نقطہ نظر

Tether اور NSE کے درمیان تعاون ابھی ابتدائی تحقیقاتی مرحلے میں ہے، اور دونوں فریقین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مکمل نفاذ کی طرف بڑھنے سے پہلے فزیبلٹی اسٹڈیز مکمل کریں گے۔ اس منصوبے میں کامیابی عالمی جنوب (Global South) کی دیگر ایکسچینجز کو بھی اسی طرح کی بلاک چین حکمت عملی اپنانے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ جیسے جیسے ریگولیٹری ماحول پختہ ہوگا، قومی مالیاتی نظام میں اسٹیبل کوائنز کا انضمام مارکیٹ کی لیکویڈیٹی بڑھانے کے لیے ایک معیاری عمل بن سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مشاہدہ کریں کہ یہ پائلٹ پروگرام مستقبل میں علاقائی مالیاتی پالیسیوں اور انفراسٹرکچر کے معیارات کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر اسٹیبل کوائنز کے ریگولیٹڈ استعمال کو سمجھیں تاکہ مستقبل میں مقامی مارکیٹ میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کے لیے تیار رہ سکیں۔