اسٹیبل کوائنز کا منظرنامہ اکتوبر 2024 تک، ٹیتھر کا USDT اور سرکل کا USDC روایتی فیاٹ کرنسیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کے درمیان بنیادی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دونوں اثاثے امریکی ڈالر کے ساتھ ایک سے ایک کے تناسب کو برقرار رکھتے ہیں، لیکن دی بلاک (The Block) کے مطابق، یہ اپنے ذخائر اور کارپوریٹ گورننس کے حوالے سے مختلف فریم ورک کے تحت کام کرتے ہیں۔ USDT مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے سب سے بڑا اسٹیبل کوائن ہے اور بین الاقوامی تجارتی پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ لیکویڈیٹی فراہم کرتا ہے۔
آپریشنل فرق اور شفافیت ٹیتھر، جو USDT جاری کرتا ہے، مارکیٹ میں جلد داخلے اور مرکزی و غیر مرکزی ایکسچینجز پر وسیع پیمانے پر قبولیت کی وجہ سے غالب پوزیشن رکھتا ہے۔ دی بلاک کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ ٹیتھر اپنے ذخائر کی رپورٹس شائع کرتا ہے، لیکن اسے اپنے اثاثوں کی ساخت کے حوالے سے طویل عرصے سے جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس، سرکل، جو USDC کے پیچھے کام کرنے والی کمپنی ہے، ریگولیٹری تعمیل اور شفافیت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ سرکل ایک عوامی طور پر ٹریڈ ہونے والی کمپنی کے طور پر کام کرتی ہے، جو اپنے آپریشنز کا باقاعدگی سے آڈٹ کرواتی ہے اور اپنے ذخائر کو بنیادی طور پر نقد اور قلیل مدتی امریکی ٹریژری بلوں میں رکھتی ہے۔
عالمی لیکویڈیٹی اور مارکیٹ افادیت لیکویڈیٹی USDT کے اپنانے کی بنیادی وجہ ہے، کیونکہ یہ عالمی ایکسچینجز پر سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا اثاثہ ہے۔ تاجر اکثر USDT کو اس کی وسیع دستیابی کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ اسے تقریباً ہر بڑے کرپٹو پلیٹ فارم کی حمایت حاصل ہے۔ USDC، اگرچہ کل مارکیٹ حجم کا چھوٹا حصہ رکھتا ہے، لیکن اسے اکثر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور ڈیفائی (DeFi) پروٹوکولز کی طرف سے ترجیح دی جاتی ہے جو سرکل کے امریکی اور یورپی لائسنسنگ سے وابستہ ریگولیٹری تحفظات کو اہمیت دیتے ہیں۔
پاکستان کا نقطہ نظر پاکستان میں کرپٹو ہولڈرز کے لیے، USDT اور USDC دونوں پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے خلاف ویلیو کو محفوظ رکھنے کے لیے اہم ٹولز ہیں۔ USDT مقامی پیئر ٹو پیئر مارکیٹ میں غالب اسٹیبل کوائن ہے، جس کی بنیادی وجہ بائنانس اور او کے ایکس (OKX) جیسے پلیٹ فارمز پر اس کی اعلیٰ لیکویڈیٹی ہے۔ تاہم، پاکستانی صارفین کو ریگولیٹری ماحول سے آگاہ رہنا چاہیے، کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسٹیبل کوائنز افراط زر کے خلاف ایک ڈھال پیش کرتے ہیں، لیکن ہولڈرز کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) اور ٹیکس رپورٹنگ کی بدلتی ہوئی ضروریات کی پیچیدگیوں کو سمجھنا ہوگا۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ معروف ایکسچینجز کا استعمال کریں اور مقامی مالیاتی رہنما خطوط پر عمل کرنے کے لیے اپنے لین دین کا واضح ریکارڈ رکھیں۔
مستقبل کا ریگولیٹری منظرنامہ جیسے جیسے عالمی ریگولیٹرز اسٹیبل کوائن جاری کرنے والوں کے لیے معیاری فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں، ٹیتھر اور سرکل کے درمیان مقابلہ تیز ہونے کا امکان ہے۔ یورپی یونین کے MiCA ضوابط نے پہلے ہی بین الاقوامی مارکیٹوں میں اسٹیبل کوائنز کے اجراء اور انتظام پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ یہ کمپنیاں نئی رپورٹنگ کے معیارات کے مطابق خود کو کیسے ڈھالتی ہیں، کیونکہ یہ تبدیلیاں آنے والے سالوں میں ان اثاثوں کی رسائی اور استحکام کو متاثر کریں گی۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ اگرچہ USDT اور USDC اثاثوں کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہیں، لیکن مقامی ریگولیٹری قوانین کی پاسداری اور محتاط انتخاب ہی طویل مدتی ڈیجیٹل اثاثہ جات کے انتظام کی کلید ہے۔

















