مارکیٹ کی مجموعی صورتحال

کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔ سب سے بڑی ڈیجیٹل اثاثہ بٹ کوائن کی قیمت 1.40 فیصد کمی کے بعد 22,093,422 روپے ہو گئی ہے۔ ایتھیریم بھی اسی رجحان کے ساتھ 1.91 فیصد گر کر 681,013 روپے پر آ گیا ہے۔ مارکیٹ کا جذبات کا انڈیکس (Fear and Greed Index) 73 پر برقرار ہے جو مارکیٹ میں لالچ کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ بٹ کوائن کی مارکیٹ ڈومیننس فی الحال 59.1864 فیصد ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بٹ کوائن کا حصہ نمایاں ہے۔

دیگر اہم اثاثوں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ XRP میں 2.93 فیصد کی سب سے بڑی کمی ہوئی اور اس کی قیمت 389 روپے رہی۔ سولانا (SOL) 1.49 فیصد کمی کے ساتھ 28,284 روپے پر آ گیا جبکہ BNB 200,170 روپے پر تقریباً مستحکم رہا۔ اس کے برعکس، ٹرون (TRX) میں 0.75 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 92 روپے تک پہنچ گیا۔ سٹیبل کوائنز USDT اور USDC کی قیمتیں 278 روپے پر مستحکم ہیں جو کہ USD/PKR کے 277.597405 کے ریٹ کے مطابق ہے۔

عالمی پیش رفت

بین الاقوامی سطح پر مارکیٹ کے مباحثوں کا مرکز ادارہ جاتی تبدیلیاں ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، بٹ کوائن کی رفتار بحال ہونے کے ساتھ ہی کارپوریٹ کرپٹو حکمت عملیوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ مزید برآں، جی 7 (G7) ممالک نے ڈیجیٹل اثاثوں کو مستقبل کے تکنیکی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کوانٹم ریزسٹنٹ کرپٹوگرافی کے معیارات اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آلٹ کوائن سیکٹر میں Zcash کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ Grayscale میں سرمایہ کاری کا بہاؤ اور مائننگ کرنے والی کمپنیوں کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ ہے۔

آج کیا دیکھیں

مقامی سرمایہ کاروں کے لیے USD/PKR کے مقابلے میں سٹیبل کوائنز کا استحکام ایک اہم اشاریہ ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر مارکیٹ کا رجحان لالچ کی طرف ہے، لیکن BTC اور ETH میں معمولی اصلاحات کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ فی الحال استحکام کے مرحلے میں ہے۔ سرمایہ کاروں کو G7 کے کوانٹم ریزسٹنٹ معیارات کے مطالبے پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ مستقبل میں ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک کو متاثر کر سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔

*ڈس کلیمر: کرپٹو اثاثے غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ یہ بریف صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ نہ سمجھا جائے۔ قیمتیں عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں۔*