مارکیٹ کا جائزہ
بٹ کوائن (BTC) گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 0.59 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 21,864,934 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اس معمولی گراوٹ کے باوجود بٹ کوائن کا مارکیٹ غلبہ 59.08 فیصد پر برقرار ہے۔ ایتھریم (ETH) نے مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 1.19 فیصد اضافے کے ساتھ 692,993 روپے کی سطح حاصل کر لی ہے۔ دریں اثنا، سٹیبل کوائنز USDT اور USDC فی یونٹ 278 روپے پر مستحکم ہیں۔
سولانا (SOL) موجودہ سیشن میں نمایاں رہا اور 3.79 فیصد اضافے کے ساتھ 28,093 روپے پر پہنچ گیا۔ دیگر اثاثوں کی کارکردگی ملی جلی رہی، جس میں BNB 0.76 فیصد اضافے کے ساتھ 195,201 روپے پر رہا، جبکہ XRP میں 2.94 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 392 روپے پر آ گیا۔ TRX میں 0.32 فیصد کی معمولی کمی ہوئی اور یہ 93 روپے پر رہا۔ FIGR_HELOC نے 2.44 فیصد اضافے کے ساتھ 287 روپے ریکارڈ کیے، جبکہ HYPE میں 0.82 فیصد کمی ہوئی اور یہ 22,504 روپے پر بند ہوا۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی شرح تبادلہ فی الحال 277.657009 ہے۔
مارکیٹ کا مزاج
مارکیٹ کا مجموعی مزاج فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس پر 71 کے اسکور کے ساتھ 'گریڈ' (لالچ) کے زون میں ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بٹ کوائن کا بل اسکور 80 تک پہنچ گیا ہے کیونکہ مارکیٹ کے شرکاء 83,000 ڈالر کی قیمت کی حد پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ادارہ جاتی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وال اسٹریٹ کے ETF جاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے بٹ کوائن کی تحویل کے عمل کو آسان بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ مزید برآں، کوائن بیس اور بیٹر نے اپنی بٹ کوائن بیکڈ مارگیج سروسز کو عام صارفین تک پھیلا دیا ہے، جو روایتی مالیاتی مصنوعات میں ڈیجیٹل اثاثوں کے مزید انضمام کا اشارہ ہے۔
آج کن چیزوں پر نظر رکھیں
پاکستان میں سرمایہ کاروں کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کے استحکام پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ سٹیبل کوائن کی برابری مقامی لیکویڈیٹی کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ مارکیٹ کے مزاج میں لالچ کا رجحان ہونے کی وجہ سے اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ ٹریڈرز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کے منظر نامے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی سرکاری اپ ڈیٹس کی پیروی کریں۔
*اعلان دستبرداری: یہ رپورٹ صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کرپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری میں خطرات شامل ہیں اور سرمایہ کاروں کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کرنی چاہیے۔*













