مارکیٹ کی کارکردگی اور رجحان
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ بٹ کوائن (BTC) اس وقت 19,289,123 روپے پر ٹریڈ کر رہا ہے جو کہ 8.20 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ ایتھریم (ETH) میں زیادہ تیزی دیکھی گئی ہے اور یہ 18.50 فیصد اضافے کے ساتھ 626,785 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دیگر اہم اثاثوں میں سولانا (SOL) 10.90 فیصد اضافے کے ساتھ 23,616 روپے اور XRP 11.70 فیصد اضافے کے ساتھ 308 روپے پر ٹریڈ کر رہے ہیں۔ HYPE ٹوکن میں 18.60 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 19,370 روپے تک پہنچ گیا۔ سٹیبل کوائنز مستحکم ہیں اور USDT اور USDC کی قیمت 278 روپے ہے، جو کہ موجودہ USD/PKR ریٹ 277.70117 کے مطابق ہے۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس (Fear and Greed Index) اس وقت 62 پر ہے، جو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے لالچ کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ بٹ کوائن کا غلبہ (Dominance) 56.5921 فیصد ہے۔
عالمی پیش رفت
عالمی مارکیٹ میں سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کی قیمتوں میں حالیہ تیزی نے عالمی سطح پر ایک ارب ڈالر سے زائد کی شارٹ لیکویڈیشنز کو متحرک کیا ہے۔ انفراسٹرکچر کے حوالے سے Bitcoin.com نے متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ USDU سٹیبل کوائن کو اپنے والیٹ ایکو سسٹم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مزید برآں کوائن بیس (Coinbase) نے Hyperliquid کے ساتھ انضمام کے ذریعے اپنی بیس ایپلیکیشن کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے۔
آج کن چیزوں پر نظر رکھیں
پاکستان میں سرمایہ کاروں کو الٹ کوائن مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنی چاہیے، خاص طور پر ETH اور XRP میں ہونے والے دوہرے ہندسوں کے اضافے کے بعد۔ اگرچہ عالمی سطح پر مارکیٹ کا رجحان لالچ کے زون میں ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے محتاط رہیں۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق صارفین کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری خطرات سے خالی نہیں ہے۔ براہ کرم نوٹ کریں کہ CryptoNews.pk یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لیے فراہم کرتا ہے اور یہ مالیاتی مشورہ نہیں ہے۔ کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کے لین دین سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں۔
پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اپ ڈیٹس SBP اور SECP کی نگرانی میں ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران PVARA کی جانب سے کوئی نئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔ ٹریڈرز کو USD/PKR کی شرح تبادلہ پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ براہ راست سٹیبل کوائنز کی مقامی قیمت اور بین الاقوامی ایکسچینجز میں داخلے کے اخراجات کو متاثر کرتی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ مجاز پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہے ہیں اور وسیع تر ڈیجیٹل اثاثہ ایکو سسٹم میں ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے چوکس رہیں۔













