ٹوکنائزڈ اثاثوں کا ادارہ جاتی انضمام
جاپانی مالیاتی خدمات کے بڑے ادارے SBI Holdings نے 25 اکتوبر 2024 کو Ondo Finance کے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کو فروغ دینا ہے۔ The Block کے مطابق، اس تعاون کا مقصد SBI Holdings کے وسیع مالیاتی نیٹ ورک کے ذریعے Ondo Finance کی مصنوعات کو تقسیم کرنا ہے، تاکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سیٹلمنٹ اور کولیٹرل مینجمنٹ کے عمل کو ہموار کیا جا سکے۔
سیٹلمنٹ میں JPYSC کا کردار
اس اقدام کا مرکزی حصہ JPYSC کا استعمال ہے، جو کہ ین (yen) سے منسلک ایک سٹیبل کوائن ہے۔ یہ نئے فریم ورک کے اندر سیٹلمنٹ اور کولیٹرل کے بنیادی ذریعہ کے طور پر کام کرے گا۔ SBI Holdings روایتی اسٹاک کی تقسیم میں سٹیبل کوائنز کو شامل کرکے سرحد پار اور مقامی اثاثوں کی منتقلی میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
آن چین فنانس ایکو سسٹم کی توسیع
Ondo Finance، جو منافع بخش اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے لیے مشہور ہے، اس انضمام کے لیے تکنیکی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ شراکت داری SBI کو اپنے کلائنٹس کو ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز تک رسائی فراہم کرنے کے قابل بناتی ہے۔ صنعت کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایک مثال قائم کر سکتی ہے کہ کس طرح روایتی مالیاتی ادارے ریگولیٹڈ مالیاتی آلات کے انتظام کے لیے پبلک بلاک چینز کا استعمال کر سکتے ہیں۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے اثرات
پاکستانی کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے، یہ پیش رفت حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کی جانب عالمی منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ یہ شراکت داری جاپانی مارکیٹ پر مرکوز ہے، لیکن یہ ثابت کرتی ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے ریگولیٹڈ سیٹلمنٹ کے لیے سٹیبل کوائنز کے استعمال میں تیزی لا رہے ہیں۔ پاکستانی صارفین کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جیسے جیسے ٹوکنائزڈ اثاثوں کے عالمی معیارات تبدیل ہوں گے، مقامی ریگولیٹری ادارے جیسے FBR یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان ان غیر ملکی اثاثوں کی درجہ بندی پر اپنی پالیسیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ فی الحال، پاکستانی ہولڈرز کو مقامی ایکسچینج کی پالیسیوں کی تعمیل کو ترجیح دینی چاہیے اور کراس بارڈر ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ خطرات کو سمجھنا چاہیے۔
ٹوکنائزیشن کا مستقبل
جیسے جیسے SBI Holdings جیسے بڑے ادارے آن چین فنانس کے ساتھ تجربات جاری رکھیں گے، عالمی مالیاتی منظرنامے میں بلاک چین پروٹوکولز کا مرکزی بینکنگ میں انضمام مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس شراکت داری کی کامیابی کا اندازہ ادارہ جاتی کلائنٹس میں ٹوکنائزڈ مصنوعات کی قبولیت کی شرح سے لگایا جائے گا۔ سرمایہ کاروں کو دیگر دائرہ اختیار میں ان کوششوں کی اسکیل ایبلٹی کے حوالے سے مزید اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔
پاکستانی قارئین کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ عالمی سطح پر ٹوکنائزیشن کا رجحان بڑھ رہا ہے، لہذا ڈیجیٹل اثاثوں میں کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل مقامی ریگولیٹری ماحول اور عالمی رجحانات سے باخبر رہنا ضروری ہے۔

















