Robinhood Chain میں تیزی سے اضافہ
اگست کے مہینے میں Robinhood Chain کی ٹوٹل ویلیو لاکڈ (TVL) میں 45 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پلیٹ فارم پر صارفین کے بدلتے ہوئے رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ دی بلاک (The Block) کی رپورٹ کے مطابق، یہ ترقی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب ٹوکنائزڈ رئیل ورلڈ اثاثوں (RWAs) کے بجائے زیادہ لچکدار اور مائع سٹیبل کوائنز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
اس نیٹ ورک کی سٹیبل کوائن مارکیٹ کیپٹلائزیشن اب 640 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس لیکویڈیٹی کا بڑا حصہ USDe سے حاصل ہو رہا ہے، جو نیٹ ورک کی حالیہ توسیع کا مرکزی محرک ثابت ہوا ہے۔ یہ رجحان ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کی وسیع تر مارکیٹ میں دیکھی جانے والی تبدیلیوں سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں صارفین منافع کے حصول اور لین دین کے لیے مستحکم اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ٹوکنائزڈ RWAs کے رجحان میں کمی
جہاں ایک طرف سٹیبل کوائنز کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ٹوکنائزڈ رئیل ورلڈ اثاثوں (RWAs) کے شعبے میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ اثاثے، جن میں ٹریژری بلز یا نجی کریڈٹ مصنوعات شامل ہیں، Robinhood Chain پر اپنی سابقہ اہمیت کھو چکے ہیں۔
دی بلاک کی رپورٹ کے مطابق، یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء فی الحال طویل مدتی اور پیچیدہ اثاثوں کے مقابلے میں فوری لیکویڈیٹی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پورٹ فولیو میں یہ تبدیلی گزشتہ ایک ماہ کے دوران نیٹ ورک کی کارکردگی کی سب سے نمایاں خصوصیت رہی ہے۔
مارکیٹ کے اثرات اور نیٹ ورک کی افادیت
TVL میں اضافہ نیٹ ورک کی صحت اور صارفین کی دلچسپی کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک مضبوط سٹیبل کوائن ایکو سسٹم کی میزبانی کرکے، یہ پلیٹ فارم خود کو ایسے صارفین کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر پیش کر رہا ہے جو روایتی بروکریج انفراسٹرکچر کے اندر رہتے ہوئے ڈیجیٹل ڈالر تک رسائی چاہتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ 640 ملین ڈالر کی مالیت کو راغب کرنے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی مالیاتی نظام اور ڈی سینٹرلائزڈ پروٹوکولز کا انضمام تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس رفتار کا تسلسل اس بات پر منحصر ہے کہ پلیٹ فارم کس حد تک مسابقتی منافع اور دیگر بڑے بلاک چین نیٹ ورکس کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھ پاتا ہے۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے نقطہ نظر
پاکستان میں موجود کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے Robinhood Chain جیسے سٹیبل کوائن پر مبنی نیٹ ورکس کی ترقی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستانی روپے (PKR) کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر، بہت سے مقامی صارفین کرنسی کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے سٹیبل کوائنز کو ایک ڈیجیٹل ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اگرچہ Robinhood خود علاقائی پابندیوں کے باعث پاکستان میں براہ راست دستیاب نہیں ہے، تاہم سٹیبل کوائنز کو اپنانے کا یہ عالمی رجحان مقامی پیئر ٹو پیئر (P2P) مارکیٹوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستانی ہولڈرز کو ریگولیٹری ماحول، خاص طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔ مقامی حکام کرپٹو سے متعلقہ ترسیلات زر اور سرمائے کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، اس لیے محفوظ اور قانونی پلیٹ فارمز کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔
سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی تحقیق خود کریں اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ انتہائی غیر مستحکم ہے اور ریگولیٹری تبدیلیوں سے تیزی سے متاثر ہو سکتی ہے۔













