11 ارب ڈالر کے سونے کی لاجسٹک چیلنج
4 ستمبر کو Ripple کے CEO بریڈ گارلنگ ہاؤس نے ڈچ سینٹرل بینک، ڈی نیدرلینڈز بینک کے ایک بڑے آپریشن کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ اس ادارے نے کامیابی کے ساتھ 86 میٹرک ٹن سونا، جس کی مالیت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، ایک نئی اسٹوریج سہولت میں منتقل کیا۔ Bitcoin.com News کی رپورٹس کے مطابق، اس عمل کے دوران اثاثوں کی حفاظت اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر جسمانی سیکیورٹی اقدامات اور مارکیٹ ٹرانزیکشنز کی ضرورت پڑی۔
گارلنگ ہاؤس نے اس واقعے کا استعمال کرتے ہوئے موجودہ بینکنگ انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل اثاثوں کی صلاحیتوں کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اتنی بڑی مقدار میں قدر کو جسمانی ذرائع سے منتقل کرنا ایک ایسے مالیاتی نظام کی علامت ہے جو 1940 کی دہائی کے بعد سے ارتقا پذیر ہونے میں ناکام رہا ہے۔ اس عمل کو مکمل ہونے میں مہینوں کا وقت لگا، جو کہ Ripple کے ایگزیکٹو کے مطابق جدید ڈیجیٹل معیشت کی رفتار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
جدید متبادل کے طور پر بلاک چین
BeInCrypto کے مطابق، Ripple کے CEO کے دلائل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی قدر کی منتقلی کے لیے ایک بہتر فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، مالیاتی ادارے نظریاتی طور پر اثاثوں کو مہینوں کے بجائے سیکنڈوں میں سرحد پار منتقل کر سکتے ہیں۔ اس سے جسمانی نقل و حمل، پیچیدہ انشورنس لاجسٹکس، اور قیمتی دھاتوں یا فیاٹ کرنسی کی نقل و حرکت سے وابستہ طویل سیٹلمنٹ کے اوقات کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔
گارلنگ ہاؤس نے اس بات پر زور دیا کہ جسمانی سونے کی منتقلی میں موروثی خامیاں محض لاجسٹک رکاوٹیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر نظامی مسئلے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی مالیاتی شعبہ پرانے نظاموں پر انحصار کرے گا، اسے غیر ضروری تاخیر اور بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے نقطہ نظر سے، ڈیجیٹل اثاثے ان سرحد پار قدر کی منتقلی کو جدید بنانے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر فراہم کرتے ہیں۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے مضمرات
پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے قدر کی منتقلی کی رفتار اور کارکردگی پر بحث خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ملک روایتی ترسیلات زر کے ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ ڈچ گولڈ ٹرانسفر ایک ادارہ جاتی معاملہ ہے، لیکن گارلنگ ہاؤس کی جانب سے زیر بحث لائی گئی ٹیکنالوجی وہی بنیادی ڈھانچہ ہے جو بالآخر پاکستانی تارکین وطن کے لیے بین الاقوامی رقم کی منتقلی کے اخراجات کو کم کر سکتا ہے۔
فی الحال، پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں پر محتاط موقف رکھتا ہے۔ اگرچہ بینکنگ کو ہموار کرنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن مقامی ریگولیٹری فریم ورک کے تحت غیر مرکزی ایکسچینجز کا استعمال اب بھی ایک غیر واضح علاقہ ہے۔ سرمایہ کاروں کو ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے ایف بی آر (FBR) کی تازہ ترین ہدایات سے باخبر رہنا چاہیے، کیونکہ قانونی منظرنامہ عالمی تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل فنانس کے لیے آگے کی راہ
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا مرکزی بینک اتنے بڑے پیمانے پر اثاثوں کی نقل و حرکت کے لیے بلاک چین کو اپنائیں گے یا نہیں۔ تاہم، گارلنگ ہاؤس جیسے صنعت کے رہنماؤں کی تنقید روایتی اداروں پر جدت لانے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل اثاثے ادارہ جاتی شناخت حاصل کر رہے ہیں، توجہ ممکنہ طور پر سادہ قیمت کی قیاس آرائیوں سے ہٹ کر عالمی مالیات میں بلاک چین کے عملی، حقیقی دنیا کے استعمال پر مرکوز ہو جائے گی۔
پاکستانی قارئین کے لیے سبق یہ ہے کہ اگرچہ روایتی مالیات موجودہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنے ہوئے ہیں، لیکن تیز تر اور ڈیجیٹل فرسٹ ویلیو سیٹلمنٹ کی طرف تکنیکی تبدیلی ایک ناگزیر رجحان ہے جو بالآخر ترسیلات زر اور بین الاقوامی تجارت کے طریقوں کو تبدیل کر سکتا ہے۔

















