دبئی میں ریگولیٹری سنگ میل

عالمی فن ٹیک کمپنی Revolut نے متحدہ عرب امارات میں اپنے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے آپریشنز کو وسعت دینے کے لیے دبئی کی ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (VARA) سے باضابطہ طور پر اصولی منظوری حاصل کر لی ہے۔ Cointelegraph کے مطابق، یہ اجازت لندن میں قائم کمپنی کو متحدہ عرب امارات کے اندر بروکر ڈیلر آپریشنز، سرمایہ کاری کی خدمات اور کرپٹو ایکسچینج کی سہولیات سمیت خدمات کا ایک مجموعہ فراہم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

عالمی موجودگی میں توسیع

یہ منظوری کمپنی کی اس وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کو اپنے موجودہ مالیاتی نظام میں ضم کرنا ہے۔ اس لائسنس کے حصول کے ساتھ، Revolut ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو مشرق وسطی میں ایک ریگولیٹڈ موجودگی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مشرق وسطی نے خود کو ڈیجیٹل اثاثہ جات کی جدت اور نگرانی کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کیا ہے۔

آپریشنل دائرہ کار اور تعمیل

رپورٹس کے مطابق، اصولی منظوری مکمل آپریشنل لائسنسنگ کا پیش خیمہ ہے۔ Revolut کو اب اپنے تعمیلی فریم ورک کو حتمی شکل دینی ہوگی اور VARA کی طرف سے مقرر کردہ مخصوص تکنیکی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا، جس کے بعد ہی وہ متحدہ عرب امارات میں مقیم صارفین کے لیے یہ خدمات باضابطہ طور پر شروع کر سکے گی۔ یہ عمل دبئی کے ریگولیٹرز کی طرف سے مارکیٹ کی سالمیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے برقرار رکھے گئے سخت معیارات کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات

متحدہ عرب امارات میں ریگولیٹڈ کرپٹو خدمات کا پھیلاؤ پاکستانی سرمایہ کاروں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بالواسطہ اہمیت رکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم بہت سے پاکستانی بین الاقوامی منتقلی اور مالیاتی انتظام کے لیے Revolut کا استعمال کرتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ پلیٹ فارمز کرپٹو خدمات کو ضم کر رہے ہیں، اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کا انتظام آسان ہو سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے اندر مقیم صارفین کے لیے، یہ پیش رفت مقامی ریگولیٹری منظر نامے کو تبدیل نہیں کرتی ہے۔ پاکستانی صارفین کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی طرف سے مقرر کردہ سخت رہنما خطوط پر عمل کرنا ہوگا، کیونکہ متحدہ عرب امارات کی منظوری پاکستان کی حدود میں ایسی خدمات کے لیے قانونی حیثیت فراہم نہیں کرتی۔

مارکیٹ آؤٹ لک

Revolut جیسے بڑے فن ٹیک کھلاڑی کا متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں داخلہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے باوجود ورچوئل اثاثوں میں ادارہ جاتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی خطے میں ریگولیٹری فریم ورک پختہ ہو رہے ہیں، صنعت کے مبصرین توقع کرتے ہیں کہ مزید روایتی مالیاتی ادارے فیاٹ بینکنگ اور بلاک چین پر مبنی خدمات کے درمیان خلیج کو ختم کریں گے۔

پاکستانی قارئین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ بیرون ملک ریگولیٹری پیش رفت پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کرتی، لہذا مقامی قوانین کی پاسداری بدستور لازم ہے۔