Ostium Perpetual DEX کو اوریکل سیکیورٹی بریچ کے باعث 18 ملین ڈالر کا نقصان
Arbitrum پر مبنی ڈی سینٹرلائزڈ ایکسچینج Ostium کو ایک سیکیورٹی حملے کا سامنا کرنا پڑا جس میں 18 ملین ڈالر مالیت کے USDC چوری ہو گئے۔

- ■ Ostium ایکسچینج سے اوریکل سائنر کی پرائیویٹ کی چوری ہونے کے باعث 18 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
- ■ ہیکرز نے غلط اوریکل ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے پروٹوکول کے لیکویڈیٹی پولز سے فنڈز نکالے۔
- ■ پاکستانی ڈی فائی صارفین کو غیر ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔
یہ مالی مشورہ نہیں ہے۔ کرپٹو اثاثے غیر مستحکم اور زیادہ خطرے والے ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا صرف معلوماتی ہے اور اس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
یہ مضمون اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا اور اشاعت سے پہلے ہماری ادارتی ٹیم نے اس کا جائزہ لیا۔
Sources
عام سوالات
- Ostium ایکسچینج پر ہیک کیسے ہوا؟
- ہیکرز نے اوریکل سائنر کی پرائیویٹ کی تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے پلیٹ فارم پر غلط ڈیٹا بھیج کر مصنوعی منافع کمایا اور 18 ملین ڈالر نکال لیے۔
- کیا پاکستانی کرپٹو صارفین اس ہیک سے متاثر ہوئے ہیں؟
- اس واقعے کا پاکستانی بینکنگ سسٹم پر براہ راست اثر نہیں پڑا ہے۔ تاہم جو پاکستانی صارفین ڈی فائی پروٹوکول استعمال کرتے ہیں انہیں ایسے خطرات سے محتاط رہنا چاہیے۔
- ڈی فائی میں سیکیورٹی سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
- صارفین کو ایسے پلیٹ فارمز کا انتخاب کرنا چاہیے جو مضبوط اور ڈی سینٹرلائزڈ اوریکل حل استعمال کرتے ہیں۔ کسی بھی ڈی سینٹرلائزڈ ایکسچینج میں سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کرنا ضروری ہے۔
CryptoNews.pk Newsroom
Editorial Team
Reporting on crypto in Pakistan in Urdu and English.
مزید پڑھیں
کرپٹو مارکیٹ کا ہفتہ وار جائزہ: سیاسی پیش رفت کے درمیان سرمایہ کاروں کا بدلتا رجحان
رائٹرز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرپٹو اثاثوں کے انکشافات نے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے، جس سے مارکیٹ میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
Base کے بانی Jesse Pollak کا اسٹریٹجک رخ، سوشل میڈیا سے توجہ ہٹا کر مالیاتی انفراسٹرکچر پر مرکوز
Coinbase کی حمایت یافتہ Base بلاک چین کے بانی Jesse Pollak نے 25 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ اب Base ایپ کی قیادت چھوڑ کر اسے Coinbase کے حوالے کر رہے ہیں تاکہ عالمی مالیاتی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔

امریکہ میں افراط زر کے اعداد و شمار کے بعد بٹ کوائن 65,000 ڈالر کے قریب پہنچ گیا
امریکہ میں افراط زر کے ٹھنڈا پڑنے کے اشاروں کے بعد 14 جولائی 2024 کو بٹ کوائن کی قیمت 65,000 ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ گئی۔













