Open USD کا ظہور CoinShares کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، Open USD نامی ایک نیا اسٹیبل کوائن پروجیکٹ Circle کے USDC کے لیے ایک بڑا مسابقتی خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد مارکیٹ کے موجودہ ڈھانچے کو چیلنج کرنا ہے، جس میں ریزرو سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صرف جاری کرنے والے کے پاس رکھنے کے بجائے کنسورشیم کے شراکت داروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ پروجیکٹ 2026 میں توقع کے مطابق لانچ ہوتا ہے تو یہ موجودہ اسٹیبل کوائن فراہم کرنے والوں کے منافع کے مارجن پر نمایاں دباؤ ڈال سکتا ہے۔
بدلتی ہوئی مارکیٹ ڈائنامکس فی الحال، Circle اپنے USDC پروڈکٹ کے ذریعے اسٹیبل کوائن مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، جو ادارہ جاتی اور وکندریقرت مالیاتی لین دین کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ CoinShares نے نشاندہی کی کہ کنسورشیم پر مبنی ریونیو ماڈل کی طرف منتقلی اس بات میں بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے کہ اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے مارکیٹ شیئر کے لیے کیسے مقابلہ کرتے ہیں۔ براہ راست ریونیو شیئرنگ کے ذریعے شراکت داروں کو ترغیب دے کر، Open USD ایسی لیکویڈیٹی اور ایڈاپشن کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی امید رکھتا ہے جو بصورت دیگر قائم شدہ اداروں کے حق میں رہتی۔
جاری کنندگان کے لیے تزویراتی مضمرات Open USD کا تعارف موجودہ اسٹیبل کوائن کاروباری ماڈلز کی پائیداری کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑتا ہے۔ اگر کنسورشیم ماڈل کامیاب ثابت ہوتا ہے تو دیگر جاری کنندگان کو مسابقتی رہنے کے لیے اپنے فیس کے ڈھانچے یا ریزرو مینجمنٹ کی حکمت عملیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ریگولیٹری ادارے ریزرو مینجمنٹ کے اس باہمی تعاون کے نقطہ نظر کو کیسے دیکھتے ہیں، کیونکہ شفافیت عالمی مالیاتی حکام کے لیے ایک بنیادی تشویش ہے۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات پاکستانی کرپٹو شائقین کے لیے، نئے اسٹیبل کوائنز کا ظہور ڈیجیٹل والٹس میں اثاثوں کے تنوع کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ USDC پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے خلاف ہیجنگ کے لیے ایک بنیادی ٹول ہے، لیکن Open USD جیسے متبادل کا تعارف بالآخر ان مقامی صارفین کے لیے مزید آپشنز فراہم کر سکتا ہے جو USD سے منسلک ہولڈنگز کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی ہولڈرز کو محتاط رہنا چاہیے کیونکہ FBR اور PVARA کے تحت ریگولیٹری منظرنامہ غیر ملکی کرنسی سے منسلک ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ فی الحال، مقامی ایکسچینجز تجرباتی اسٹیبل کوائنز کے لیے محدود سپورٹ فراہم کرتی ہیں، لہذا صارفین کو نئے مارکیٹ داخل ہونے والوں کا جائزہ لیتے وقت لیکویڈیٹی اور سیکیورٹی کو ترجیح دینی چاہیے۔
مستقبل کا منظرنامہ جیسے جیسے اسٹیبل کوائن کا شعبہ پختہ ہو رہا ہے، مرکزی جاری کنندگان اور کنسورشیم کی قیادت والے پروجیکٹس کے درمیان مسابقت کے شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ Open USD کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے پارٹنر نیٹ ورک کو بڑھاتے ہوئے شفافیت اور ریگولیٹری تعمیل کو کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ آنے والے سالوں میں ڈیجیٹل ڈالر کے مساوی معیارات کی ازسرنو تعریف کر سکتے ہیں۔
پاکستانی کرپٹو صارفین کو اپنی بنیادی ہیجنگ حکمت عملیوں کو تبدیل کرنے سے پہلے اس بات پر گہری نظر رکھنی چاہیے کہ یہ نئے اسٹیبل کوائن ماڈلز مقامی ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ کیسے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔













