مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کا بڑھتا ہوا خطرہ
NEAR پروٹوکول کے شریک بانی الیا پولوشوکن نے حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی بلاک چین سیکیورٹی کے منظر نامے کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔ دی بلاک (The Block) کی رپورٹ کے مطابق، پولوشوکن نے خبردار کیا ہے کہ AI کی مدد سے کیے جانے والے ہیکنگ کے طریقے اب روایتی انسانی کوڈ ریویو سے کہیں زیادہ تیز ہو چکے ہیں۔ یہ تبدیلی ان ڈی سینٹرلائزڈ نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا خطرہ پیدا کرتی ہے جو مکمل طور پر انسانی آڈیٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔
جیسے جیسے AI ٹولز بدنیتی پر مبنی عناصر کے لیے زیادہ قابل رسائی ہو رہے ہیں، ہیکنگ کے طریقوں کو دریافت کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کی رفتار میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ پولوشوکن نے نشاندہی کی ہے کہ موجودہ دور میں صرف انسانی آڈیٹرز پر انحصار کرنا ان خودکار خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ لہذا، انڈسٹری کو اپنے صارفین کے اثاثوں کی حفاظت کے لیے زیادہ مضبوط اور مشین سے تصدیق شدہ سیکیورٹی فریم ورکس کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔
فارمل ویریفیکیشن کی جانب منتقلی
ان پیچیدہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے، پولوشوکن 'فارمل ویریفیکیشن' (Formal Verification) کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی وکالت کرتے ہیں۔ اس عمل میں ریاضیاتی ثبوتوں کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اسمارٹ کنٹریکٹ کا کوڈ بالکل اسی طرح کام کرے جیسا کہ اسے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے وہ ابہام ختم ہو جاتا ہے جو اکثر سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کا باعث بنتا ہے۔ ڈیولپرز اس عمل کو اپنے ڈیولپمنٹ لائف سائیکل میں شامل کر کے ان خامیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں جو روایتی ٹیسٹنگ کے دوران نظر انداز ہو سکتی ہیں۔
فارمل ویریفیکیشن کوئی نیا تصور نہیں ہے، لیکن ماضی میں یہ عمل وسائل طلب اور پیمانے کے لحاظ سے مشکل رہا ہے۔ تاہم، NEAR کے شریک بانی کا کہنا ہے کہ وہی AI ٹیکنالوجی جو سائبر حملوں کو ہوا دے رہی ہے، مستقبل میں ان ریاضیاتی ثبوتوں کو خودکار بنانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک فعال دفاعی حکمت عملی کی طرف لے جائے گا، جہاں مین نیٹ پر کوڈ لانچ کرنے سے پہلے ہی اس کی درستگی کی تصدیق کی جا سکے گی۔
بلاک چین انفراسٹرکچر کے لیے مضمرات
اسمارٹ کنٹریکٹس کی کمزوری بلاک چین کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ جب کوڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے، تو فنڈز کا نقصان اکثر صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے، جس کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ اگر انڈسٹری اپنے سیکیورٹی معیارات کو بہتر بنانے میں ناکام رہتی ہے، تو ڈیولپرز کے لیے ایسی پیچیدہ مالیاتی ایپلی کیشنز بنانا مشکل ہو جائے گا جن کے لیے اعلیٰ سطح کی وشوسنییتا کی ضرورت ہوتی ہے۔
پولوشوکن کا ماننا ہے کہ محفوظ بلاک چین ڈیولپمنٹ کا مستقبل AI اور فارمل طریقوں کے ملاپ میں مضمر ہے۔ ایسے ماحول پیدا کر کے جہاں کوڈ فطری طور پر عام حملوں کے خلاف مزاحمت کر سکے، ایکو سسٹم ایک زیادہ مستحکم اور محفوظ بنیاد کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ یہ ارتقاء ڈی سینٹرلائزڈ فنانس اور دیگر بلاک چین پر مبنی خدمات کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان کے لیے نقطہ نظر
پاکستان میں کرپٹو ہولڈرز اور ڈیولپرز کے لیے، یہ تبدیلی اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) پروٹوکولز کے ساتھ تعامل کرتے وقت مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ اگرچہ مقامی سرمایہ کار اکثر قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، لیکن ان پلیٹ فارمز کی بنیادی سیکیورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ جیسے جیسے ہیکرز جدید ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں، غیر آڈٹ شدہ یا کم محفوظ اسمارٹ کنٹریکٹس کے ساتھ تعامل کا خطرہ ہر کسی کے لیے بڑھ رہا ہے۔
ویب 3 (Web3) کی دنیا میں قدم رکھنے والے پاکستانی ڈیولپرز کو فارمل ویریفیکیشن ٹولز سیکھنے کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں اس مہارت کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں، صارفین کو ایسے پلیٹ فارمز سے محتاط رہنا چاہیے جن میں شفاف سیکیورٹی آڈٹ کا فقدان ہو، کیونکہ AI سے چلنے والے حملوں کا خطرہ جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے۔ مقامی ریٹیل شرکاء کے لیے خودکار سائبر خطرات سے بچنے کا بہترین دفاع معتبر اور اچھی طرح سے آڈٹ شدہ ایکسچینجز یا پروٹوکولز کا استعمال ہی ہے۔
پاکستانی کرپٹو صارفین کو اپنے اثاثوں کو AI سے چلنے والے جدید سائبر خطرات سے بچانے کے لیے ان پلیٹ فارمز کو ترجیح دینی چاہیے جو فارمل کوڈ ویریفیکیشن پر زور دیتے ہیں۔
















