ڈیمیٹ 2.0 کا آغاز

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) نے باضابطہ طور پر اپنے ڈیمیٹ 2.0 پائلٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جو بلاک چین پر مبنی مالیاتی انفراسٹرکچر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ دی بلاک کی رپورٹ کے مطابق، تین بڑے جاری کنندگان نے ٹوکنائزڈ کارپوریٹ بانڈز کے ذریعے 100 ملین ڈالر سے زائد کی رقم کامیابی سے اکٹھی کی ہے۔ یہ اقدام ریگولیٹر کی جانب سے قرض کے آلات کے تصفیے کے عمل کو جدید بنانے کی ایک اسٹریٹجک کوشش ہے۔

ہول سیل CBDC کا انضمام

اس پائلٹ کا ایک بنیادی جزو تصفیے کے مقاصد کے لیے ہول سیل سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (wCBDC) کا استعمال ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس نظام کا مقصد بانڈ کے روایتی تصفیے کے چکروں سے وابستہ وقت اور پیچیدگی کو کم کرنا ہے۔ یہ انضمام ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی بینک کی تائید یافتہ ڈیجیٹل اثاثے مارکیٹ کی کارکردگی اور لیکویڈیٹی کو بہتر بنانے کے لیے ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کے ساتھ کیسے کام کر سکتے ہیں۔

علاقائی مارکیٹ انفراسٹرکچر کے لیے مضمرات

یہ پیشرفت پورے جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کرتی ہے جہاں ریگولیٹرز سرمایہ کاری کی منڈیوں کو ہموار کرنے کے لیے ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ روایتی ڈی میٹریلائزڈ اکاؤنٹس طویل عرصے سے خطے میں معیار رہے ہیں، ٹوکنائزڈ اثاثوں کی جانب منتقلی فوری تجارتی تصفیے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پائلٹ اس بات کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے کہ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن تک کیسے پہنچتی ہیں۔

پاکستان کا نقطہ نظر

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور مالیاتی اسٹیک ہولڈرز کے لیے، بھارتی پائلٹ ریاستی سطح پر بلاک چین کو اپنانے کے حوالے سے ایک کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فی الحال، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے زیر نگرانی پاکستان کا ریگولیٹری فریم ورک ڈیجیٹل اثاثوں پر محتاط موقف رکھتا ہے۔ اگرچہ مقامی پورٹ فولیوز پر اس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہے، لیکن پڑوسی مارکیٹ میں ٹوکنائزڈ بانڈز کا کامیاب نفاذ مقامی مالیاتی ایکو سسٹم میں بلاک چین پر مبنی قرض کے آلات کے امکانات پر مستقبل کی بحث کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق مقامی ضوابط دیگر دائرہ اختیار میں جاری ان مخصوص پائلٹ پروگراموں کے مقابلے میں مختلف اور محدود ہیں۔

ٹوکنائزیشن کا مستقبل

ڈیمیٹ 2.0 پائلٹ کی کامیابی ادارہ جاتی مالیات میں بلاک چین کی اسکیل ایبلٹی کو جانچنے کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ جیسے جیسے ریگولیٹرز ان ابتدائی اجرا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کریں گے، توجہ ٹوکنائزڈ اثاثوں کی ثانوی مارکیٹ ٹریڈنگ کے لیے جامع قانونی فریم ورک قائم کرنے کی طرف منتقل ہوگی۔ wCBDC کا استعمال کرتے ہوئے لین دین کو طے کرنے کی صلاحیت ایک اہم عنصر ہے جو عالمی سطح پر کارپوریٹ قرضوں کے انتظام اور تجارت کے طریقے کو نئے سرے سے متعین کر سکتی ہے۔

پاکستان کے سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر بلاک چین ٹیکنالوجی کے ارتقاء پر نظر رکھیں لیکن مقامی ریگولیٹری حدود کا مکمل احترام کریں۔