ٹیتھر کے سی ای او پاولو آرڈوینو نے 15 مئی 2024 کو کمپنی کی مالیاتی شفافیت اور انکشافات کے بارے میں ناقدین کے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمپنی کا بنیادی مقصد آپریشنل کارکردگی ہے، نہ کہ بیرونی دباؤ کے تحت تفصیلی آڈٹ رپورٹس جاری کرنا۔ دی بلاک کی رپورٹ کے مطابق، چونکہ ٹیتھر ایک نجی کمپنی ہے، اس لیے اس پر عوامی سطح پر مکمل آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے جاری کرنے کی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

کے پی ایم جی آڈٹ کا کردار

ٹیتھر اپنے ذخائر کی تصدیق کے لیے کے پی ایم جی (KPMG) جیسی اکاؤنٹنگ فرم کی خدمات حاصل کرتی ہے جو وقتاً فوقتاً اٹیسٹیشن رپورٹس جاری کرتی ہے۔ یہ دستاویزات USDT کے بیک اپ میں موجود اثاثوں کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں، جو ڈیجیٹل کرنسی کے ماحول میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اثاثہ ہے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ یہ اٹیسٹیشن رپورٹس روایتی مالیاتی اداروں کے مکمل آڈٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

نجی کمپنی ہونے کا موقف

ٹیتھر کی شفافیت پر بحث اکثر اس کی نجی حیثیت کے گرد گھومتی ہے۔ پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کے برعکس، جنہیں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن جیسے اداروں کے سخت ضوابط کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹیتھر اپنی اندرونی مالیاتی تفصیلات ظاہر کرنے کی پابند نہیں ہے۔ دی بلاک کے ذرائع کے مطابق، کمپنی اپنی نجی حیثیت کو اپنی کارپوریٹ حکمت عملی کا ایک اہم حصہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے مکمل آڈٹ شدہ بیانات عوامی نہیں کیے جاتے۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات

پاکستان میں کرپٹو صارفین کے لیے یہ بحث انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ USDT مقامی مارکیٹ میں تجارت اور لیکویڈیٹی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بہت سے پاکستانی شہری USDT کو امریکی ڈالر کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور اتار چڑھاؤ سے بچ سکیں۔ اگرچہ مکمل آڈٹ کی عدم موجودگی ٹوکن کے روزمرہ استعمال کو فوری طور پر متاثر نہیں کرتی، لیکن یہ ایک ایسا نظامی خطرہ ہے جسے مقامی ٹریڈرز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مقامی پی ٹو پی (P2P) ایکسچینجز کے ذریعے USDT خریدنے والے سرمایہ کاروں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اثاثے ایک نجی کمپنی کے زیر انتظام ہیں، اور ان کے بیک اپ میں کسی بھی قسم کی عدم استحکام مقامی لیکویڈیٹی اور ایکسچینج ریٹس پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری ماحول اب بھی پیچیدہ ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) سمیت دیگر حکام مالیاتی بہاؤ کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسٹیبل کوائنز رکھنے پر کوئی باضابطہ پابندی نہیں ہے، لیکن واضح قانونی فریم ورک کی کمی کے باعث صارفین کو محدود تحفظ حاصل ہے۔ جیسے جیسے عالمی سطح پر اسٹیبل کوائنز کی شفافیت پر بحث آگے بڑھ رہی ہے، پاکستانی صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل والٹس میں موجود اثاثوں کے بارے میں مکمل تحقیق اور احتیاط سے کام لیں۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ USDT جیسی ڈیجیٹل کرنسیوں میں سرمایہ کاری کرتے وقت اس کے نجی انتظام اور مارکیٹ کے ممکنہ خطرات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔