پارلیمانی تحقیقات کا آغاز

24 اکتوبر 2024 کو برطانیہ کی ٹریژری کمیٹی نے کئی بڑے بینکنگ اداروں کو ایک باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے، جس میں ان سے کرپٹو فرموں کو خدمات فراہم کرنے سے مسلسل انکار کی وجوہات طلب کی گئی ہیں۔ دی بلاک (The Block) کے مطابق، قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ بینکوں کی یہ سخت پالیسیاں ملکی ڈیجیٹل اثاثہ جات کے شعبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کیا یہ بینک فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی (FCA) کی جانب سے کرپٹو کاروبار کے لیے نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد اپنے رسک مینجمنٹ کے رویے میں تبدیلی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور مارکیٹ تک رسائی

برطانیہ میں کام کرنے والی کرپٹو فرمیں برسوں سے کارپوریٹ اکاؤنٹس یا ادائیگیوں کی پروسیسنگ جیسی بنیادی بینکنگ خدمات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اگرچہ انڈسٹری کا موقف رہا ہے کہ ان فرموں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، تاہم بینکوں کا کہنا ہے کہ واضح ریگولیٹری رہنما خطوط کی عدم موجودگی منی لانڈرنگ اور فراڈ کے خطرات کو سنبھالنا مشکل بناتی ہے۔ ایف سی اے (FCA) کا متوقع فریم ورک ان قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جنہیں بینک انڈسٹری کے ساتھ تعاون کے لیے ایک شرط قرار دیتے ہیں۔

ایف سی اے ریگیم سے وابستہ توقعات

قانون ساز اب بینکوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ واضح کریں کہ آیا باضابطہ ضوابط کے آنے سے ان کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ کمیٹی خاص طور پر اس بات کے شواہد تلاش کر رہی ہے کہ آیا بینک ان کرپٹو فرموں کو جگہ دینے کے لیے اپنے داخلی تعمیل پروٹوکولز کو اپ ڈیٹ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو نئے ایف سی اے معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ حکومت اس شفافیت کے ذریعے اس صورتحال سے بچنا چاہتی ہے جہاں ایک ریگولیٹڈ انڈسٹری ادارہ جاتی سستی کی وجہ سے روایتی مالیاتی نظام سے باہر رہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور کاروباری افراد کے لیے برطانیہ کی بینکنگ صورتحال روایتی مالیات اور ڈیجیٹل اثاثوں کے تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک اہم کیس اسٹڈی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ابھی تک برطانیہ کے ایف سی اے ریگیم کے مساوی کوئی باضابطہ ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں ہے، لیکن بینکنگ تک رسائی کی جدوجہد ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ پاکستان میں مقامی ایکسچینجز اور بلاک چین اسٹارٹ اپس کو اکثر اسی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں لیکویڈیٹی کے لیے غیر رسمی ذرائع کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے برطانیہ ایک زیادہ منظم ماحول کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ پاکستانی ریگولیٹرز کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ وہ واضح رہنما خطوط فراہم کریں تاکہ مقامی بینکوں کو PKR اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل اثاثہ پلیٹ فارمز کے درمیان خلا کو پر کرنے کی ترغیب مل سکے۔

ادارہ جاتی انضمام کا مستقبل

اگر برطانیہ بینکوں کو ریگولیٹڈ کرپٹو اداروں کے لیے اپنے دروازے کھولنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ادارہ جاتی اختیار (institutional adoption) کے لیے ایک عالمی مثال قائم کر سکتا ہے۔ اس تحقیقات کا نتیجہ ممکنہ طور پر اس بات پر اثر انداز ہوگا کہ دیگر ممالک، بشمول ابھرتی ہوئی مارکیٹیں، کرپٹو کاروبار کو باضابطہ مالیاتی شعبے میں ضم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔ فی الحال، انڈسٹری ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ادارہ جاتی پالیسیاں بالآخر بدلتے ہوئے ریگولیٹری منظرنامے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہیں یا نہیں۔

جیسے جیسے برطانیہ اپنے کرپٹو سیکٹر کو باضابطہ بنا رہا ہے، پاکستانی سرمایہ کاروں کو ان بین الاقوامی ریگولیٹری تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ یہ اکثر ڈیجیٹل اثاثہ جات کی بینکنگ کے لیے طویل مدتی عالمی معیارات کا تعین کرتی ہیں۔