روس میں کرپٹو ریگولیٹری کا نیا دور
8 اگست 2024 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک جامع قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ملک میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کو باضابطہ قانونی حیثیت مل گئی ہے۔ ڈیکرپٹ (Decrypt) کی رپورٹ کے مطابق، یہ قانون سازی ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک منظم مارکیٹ قائم کرتی ہے جس کی نگرانی روس کا مرکزی بینک کرے گا۔ یہ اقدام ملک کے ڈیجیٹل کرنسیوں کے حوالے سے ماضی کے مبہم موقف میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
نئے قانونی فریم ورک کے تحت، ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرنے والے تمام پلیٹ فارمز کو مخصوص لائسنس حاصل کرنا ہوں گے اور سخت رپورٹنگ کے تقاضوں کی پابندی کرنی ہوگی۔ روسی حکام کا مقصد اس اقدام کے ذریعے غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو روکنا اور ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے سے ٹیکس کی آمدنی حاصل کرنا ہے۔ اس رسمی حیثیت کے باوجود، حکومت نے ملکی سطح پر ادائیگیوں کے لیے کرپٹو کرنسی کے استعمال پر سخت پابندی برقرار رکھی ہے تاکہ روسی روبل کو ہی قانونی ٹینڈر کے طور پر برقرار رکھا جا سکے۔
جدت اور مالیاتی خودمختاری کے درمیان توازن
روسی پالیسی ساز طویل عرصے سے اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وکندریقرت (decentralized) کرنسیوں سے قومی مالیاتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تجارت کی اجازت دے کر اور ادائیگیوں پر پابندی لگا کر، کریملن تکنیکی جدت اور ملکی معیشت پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ دوہرا نقطہ نظر اس لیے اپنایا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے انفراسٹرکچر میں ادارہ جاتی دلچسپی کو راغب کیا جا سکے اور روایتی بینکنگ نظام کو نظر انداز ہونے سے بچایا جا سکے۔
صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی ان کمپنیوں کے لیے ایک واضح راستہ فراہم کرتی ہے جو روس میں کرپٹو سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ تاہم، مرکزی بینک کی نگرانی کی شرط یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ صنعت ایک انتہائی کنٹرول شدہ ماحول میں کام کرے گی۔ یہ قانون ریاست کو لین دین کی نگرانی کرنے کے لیے میکانزم بھی قائم کرتا ہے، جو کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے والے کئی ممالک میں ایک عام خصوصیت ہے۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے مضمرات
پاکستان میں سرمایہ کاروں اور کرپٹو کے شوقین افراد کے لیے روسی پیش رفت ایک یاد دہانی ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹیں ریگولیٹ ہو رہی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں فی الحال کرپٹو کرنسی کے لیے کوئی جامع قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے، لیکن تجارت اور ادائیگیوں کو الگ کرنے کا روسی ماڈل ایک ایسی حکمت عملی ہے جس پر دنیا بھر کے ریگولیٹرز بحث کرتے رہتے ہیں۔ پاکستانی ہولڈرز کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی دوسرے ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کی قانونی حیثیت سے مقامی ریگولیٹری ماحول پر براہ راست اثر نہیں پڑتا۔
فی الحال، پاکستانی کرپٹو صارفین ایک غیر واضح قانونی حیثیت میں کام کر رہے ہیں، جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) موجودہ انکم ٹیکس قوانین کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس لگانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ پاکستان میں باضابطہ ایکسچینج لائسنسنگ کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ مقامی صارفین اکثر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں، جس میں فنڈز کی رسائی اور تعمیل کے حوالے سے خطرات موجود ہیں۔ جیسے جیسے روس اپنی مارکیٹ کو باضابطہ بنا رہا ہے، یہ واضح ریگولیٹری رہنما خطوط کی بڑھتی ہوئی عالمی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے جو مستقبل میں پاکستانی حکام کے نقطہ نظر کو متاثر کر سکتی ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
جیسے جیسے روس ان نئے قوانین پر عمل درآمد شروع کرے گا، عالمی کرپٹو برادری یہ دیکھے گی کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل اثاثوں کے تبادلے کی نگرانی کتنی مؤثر طریقے سے کر سکتا ہے۔ اس ماڈل کی کامیابی ان دیگر ممالک کے لیے ایک بلیو پرنٹ فراہم کر سکتی ہے جو کرپٹو کو اپنے مالیاتی نظام میں مکمل طور پر ضم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ بین الاقوامی ریگولیٹری تبدیلیاں کس طرح بالآخر ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس اور ایکسچینج آپریشنز سے متعلق مقامی پالیسیوں کو تشکیل دے سکتی ہیں۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ریگولیٹری تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیتے رہیں کیونکہ یہ مستقبل میں مقامی پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

















