سیکیورٹی میں تبدیلی 24 اکتوبر 2024 کو کرپٹو تفتیش کار ZachXBT نے کہا کہ ایک مخصوص، ایئر گیپڈ (انٹرنیٹ سے منقطع) آئی فون کا استعمال روایتی ہارڈویئر والیٹس کے مقابلے میں زیادہ سیکیورٹی فراہم کر سکتا ہے۔ CryptoSlate کے مطابق، یہ دلیل اس مفروضے پر مبنی ہے کہ دونوں ڈیوائسز دستخط کرنے والے آلات کے طور پر کام کرتی ہیں، اور بنیادی سیکیورٹی خدشہ یہ ہے کہ دستخط بننے کے بعد ٹرانزیکشن کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے۔ اس بحث نے ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ میں موبائل ڈیوائسز اور ہارڈویئر والیٹس کے موازنے پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

ماہرین کی آراء پرائیویسی کے شعبے میں سرگرم رومن سٹورم نے اس تصور کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے اہم تکنیکی حدود کی نشاندہی بھی کی ہے۔ BeInCrypto کے مطابق، سٹورم نے نوٹ کیا کہ اگرچہ آئی فون کا طریقہ کار کارآمد ہو سکتا ہے، لیکن معیاری موبائل کنفیگریشنز میں BIP39 پاس فریز سپورٹ کی کمی صارفین کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ یہ موبائل انٹرفیس کی سہولت اور ہارڈویئر والیٹس کی طرف سے فراہم کردہ خصوصی انکرپشن پروٹوکولز کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔

خطرات کا فرق CryptoSlate کی رپورٹ کے مطابق، یہ بحث آپریٹنگ سسٹمز کی پیچیدگی پر مرکوز ہے۔ جہاں ہارڈویئر والیٹس کو ناقابل تبدیلی سائننگ ڈیوائسز کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، وہاں جدید موبائل آپریٹنگ سسٹمز کی پیچیدگی حملہ آوروں کے لیے ایک وسیع راستہ فراہم کرتی ہے۔ آئی فون کے طریقہ کار کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایئر گیپڈ ڈیوائس بھی موبائل فرم ویئر کے ان خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے جو کرپٹو کرنسی کسٹڈی کے لیے خاص طور پر تیار نہیں کیے گئے۔

پاکستانی ہولڈرز کے لیے اثرات پاکستان میں کرپٹو ہولڈرز کے لیے، یہ بحث سیکیورٹی اور مقامی دستیابی کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ چونکہ ہارڈویئر والیٹس اکثر بین الاقوامی شپنگ کا تقاضا کرتے ہیں اور مقامی طور پر ان کا حصول مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے بہت سے پاکستانی صارفین موبائل بیسڈ سافٹ ویئر والیٹس پر انحصار کرتے ہیں۔ صارفین کو محتاط رہنا چاہیے۔ موجودہ ریگولیٹری ماحول میں، جہاں کرپٹو اثاثوں کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا SECP کے فریم ورک کے تحت باضابطہ شناخت حاصل نہیں ہے، ناقص سیکیورٹی کے باعث فنڈز تک رسائی کھونا ایک بڑا خطرہ ہے۔ اگر آپ اسٹوریج کے لیے موبائل ڈیوائس استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یقینی بنائیں کہ یہ ایک مخصوص یونٹ ہو جسے عام براؤزنگ یا سوشل میڈیا کے لیے استعمال نہ کیا جائے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ نہ سمجھا جائے۔

حتمی نتیجہ اگرچہ کولڈ اسٹوریج کے لیے پرانا آئی فون استعمال کرنا ایک دلچسپ تصور ہے، لیکن پاکستانی سرمایہ کاروں کو تب تک قائم شدہ ہارڈویئر سیکیورٹی معیارات کو ترجیح دینی چاہیے جب تک کہ موبائل بیسڈ حل زیادہ مضبوط اور انڈسٹری کے معیاری تحفظ فراہم نہ کریں۔