مارکیٹ میں شکوک و شبہات اور قیمتوں کے تخمینے معروف ماہر معاشیات اور ڈیجیٹل اثاثوں کے سخت ناقد پیٹر شف نے 15 جولائی کو خبردار کیا کہ بٹ کوائن ہولڈرز کو اپنے اثاثے برقرار رکھنے پر مستقبل میں پچھتاوا ہو سکتا ہے۔ BeInCrypto کے مطابق، شف نے پیش گوئی کی ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں 70 فیصد تک کی بڑی گراوٹ آ سکتی ہے، جس سے اس کی قیمت 20 ہزار ڈالر کی سطح تک گر سکتی ہے۔ یہ نقطہ نظر حالیہ مارکیٹ سرگرمیوں کے برعکس ہے، جہاں بٹ کوائن نے دوبارہ 65 ہزار ڈالر کی سطح کو عبور کیا ہے۔
کارپوریٹ حکمت عملیوں پر تنقید پیٹر شف نے مائیکرو اسٹریٹجی اور اس کے ایگزیکٹو چیئرمین مائیکل سیلر کی حکمت عملیوں پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔ BeInCrypto کی رپورٹ کے مطابق، شف نے کمپنی کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا ہے جس میں مزید بٹ کوائن خریدنے کے لیے اسٹاک جاری کیے جا رہے ہیں۔ شف نے اس حکمت عملی کو ایک جال قرار دیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ کمپنی روایتی کاروباری اصولوں کے بجائے کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے جڑ گئی ہے۔
مارکیٹ کے پچھتاوے کی نفسیات اپنے منفی نظریے کو برقرار رکھتے ہوئے، پیٹر شف نے تسلیم کیا کہ وہ ماضی میں کرپٹو کرنسی کے ابتدائی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے تھے۔ Bitcoin.com News کے مطابق، سونے کے حامی اس ماہر کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے لوگ برسوں پہلے بٹ کوائن نہ خریدنے پر پچھتا رہے ہیں، مگر اگلا پچھتاوا ان لوگوں کا ہوگا جو قیمت 60 ہزار ڈالر سے اوپر ہونے کے باوجود اسے فروخت نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ ویلیو ایشن طویل مدتی استحکام کی عکاس نہیں ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں پر اثرات پاکستانی کرپٹو شائقین کے لیے یہ انتباہات عالمی ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ میں موجود فطری اتار چڑھاؤ کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگرچہ مقامی ایکسچینجز بٹ کوائن تک رسائی فراہم کرتی ہیں، مگر پاکستانی روپیہ عالمی معاشی تبدیلیوں اور ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ریگولیٹری جانچ پڑتال کے لیے انتہائی حساس ہے۔ سرمایہ کاروں کو ایسی انتہائی پیش گوئیوں سے محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ یہ اکثر مقامی لیکویڈیٹی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف ہیجنگ کے طور پر ڈیجیٹل اثاثوں کی افادیت کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ پیٹر شف کے تبصروں کا مقامی پاکستانی مارکیٹ آپریشنز سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے، لیکن بنیادی اتار چڑھاؤ ملک کے ہر ریٹیل ہولڈر کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ انفرادی مارکیٹ مبصرین کی قیاس آرائیوں پر انحصار کرنے کے بجائے رسک مینجمنٹ کو ترجیح دیں اور آزادانہ تحقیق کریں۔

















