بنیادی مسئلہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں بٹ کوائن کی قلیل مدتی پریڈکشن مارکیٹس میں ایک اہم کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، Polymarket جیسے ڈی سینٹرلائزڈ پلیٹ فارمز پر استعمال ہونے والے پانچ منٹ کے سیٹلمنٹ ونڈوز شرکاء کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ معاہدوں کے نتائج کو متاثر کرنے کے لیے اسپاٹ پرائس میں ہیرا پھیری کریں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ مختصر دورانیہ تاجروں کے لیے بڑے آرڈرز کے ذریعے قیمت کو مطلوبہ سطح پر لانا آسان بناتا ہے۔

مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے طریقہ کار تحقیق میں وضاحت کی گئی ہے کہ جب کوئی پریڈکشن مارکیٹ پانچ منٹ کے ونڈو میں سیٹل ہوتی ہے، تو اسپاٹ پرائس کو تبدیل کرنے کی لاگت ممکنہ منافع کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے۔ بڑے ایکسچینجز پر مرکوز ٹریڈز کے ذریعے، کچھ عناصر معاہدے کے آخری لمحات میں BTC کی قیمت کو مصنوعی طور پر اوپر یا نیچے کر سکتے ہیں۔ محققین کا ماننا ہے کہ اس طرز عمل سے مارکیٹ کی پیش گوئی کرنے کی افادیت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ توجہ حقیقی پیش گوئی کے بجائے تکنیکی مداخلت پر مرکوز ہو جاتی ہے۔

مجوزہ حل ان خطرات کو کم کرنے کے لیے، اسٹینفورڈ کی ٹیم نے پریڈکشن مارکیٹس کے لیے سیٹلمنٹ ونڈوز کو بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ مصنفین کا استدلال ہے کہ سیٹلمنٹ کے وقت کو طویل کرنے سے ہیرا پھیری کی لاگت بہت زیادہ ہو جائے گی، جس سے انفرادی عناصر کے لیے ایسا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ طویل ونڈوز مارکیٹ کے وسیع تر رجحانات کی بہتر عکاسی کریں گی اور قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کر کے ڈیٹا کے معیار کو محفوظ رکھیں گی۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات پاکستان میں کرپٹو کے شوقین افراد کے لیے یہ تحقیق ڈی سینٹرلائزڈ فنانس میں موجود خطرات کی یاد دہانی ہے۔ اگرچہ مقامی پلیٹ فارمز پر عام طور پر پانچ منٹ کی ایسی پریڈکشن پروڈکٹس دستیاب نہیں ہیں، تاہم پاکستانی تاجر اکثر VPN کے ذریعے عالمی ڈی سینٹرلائزڈ ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ صارفین کو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر مارکیٹ ہیرا پھیری سے متعلق خطرات سے آگاہ رہنا چاہیے۔ مزید برآں، چونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے، اس لیے پاکستانی سرمایہ کاروں کو مقامی مالیاتی ضوابط کی پاسداری کرنی چاہیے کیونکہ ڈی سینٹرلائزڈ بیٹنگ اور ڈیریویٹوز کے حوالے سے قانونی فریم ورک ابھی تک غیر واضح ہے۔

خلاصہ اگرچہ پریڈکشن مارکیٹس اثاثوں کی قیمتوں کی نقل و حرکت کے ساتھ منسلک ہونے کے منفرد مواقع فراہم کرتی ہیں، لیکن اسٹینفورڈ کی تحقیق ہیرا پھیری روکنے کے لیے مضبوط ڈیزائن کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ شفاف سیٹلمنٹ کے عمل والے پلیٹ فارمز کو ترجیح دیں اور ایسی ہائی فریکوئنسی بیٹنگ مارکیٹس سے دور رہیں جہاں لیکویڈیٹی کی کمی قیمتوں میں بگاڑ کا باعث بن سکتی ہے۔