سیول میں قانونی ارتقاء جنوبی کوریا کی حکومت نے 76 سال پرانے قانون میں ترمیم کا اعلان کیا ہے تاکہ کرپٹو کرنسیوں کو باضابطہ طور پر قومی اثاثوں کے طور پر درجہ بندی کیا جا سکے۔ کوائن ڈیسک کے مطابق، یہ قانون سازی ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جس سے ڈیجیٹل کرنسیوں کو قیاس آرائی پر مبنی آلات سے نکال کر قومی مالیاتی منظرنامے کے تسلیم شدہ اجزاء میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک واضح ریگولیٹری بنیاد فراہم کرنا ہے۔

حکومتی بانڈز کی ٹوکنائزیشن اثاثوں کی درجہ بندی سے آگے بڑھتے ہوئے، سیول ریاستی انفراسٹرکچر میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو ضم کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ حکومت نے اگلے سال سے ٹوکنائزڈ سرکاری بانڈز کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اقدام عوامی مالیات کو جدید بنانے اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری قرض کے انتظام کی کارکردگی کو بڑھانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

رئیل اسٹیٹ اور سرکاری اثاثے حکام سرکاری ملکیت والی رئیل اسٹیٹ کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ان اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دے کر حکومت عوامی املاک کے انتظام میں شفافیت اور لیکویڈیٹی کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ یہ تجرباتی نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے کہ جنوبی کوریا صرف ورچوئل کرنسیوں کے بجائے ٹھوس سرکاری اثاثوں پر بلاک چین کا اطلاق کرکے عالمی سطح پر اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سب سے آگے رہنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے لیے اثرات پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، یہ پیش رفت ایک معیار کے طور پر کام کرتی ہے کہ کس طرح مستحکم معیشتیں ڈیجیٹل اثاثوں کو قانونی حیثیت دے رہی ہیں۔ اگرچہ جنوبی کوریا مکمل انضمام کی طرف بڑھ رہا ہے، پاکستان فی الحال ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت نگرانی میں ایک محتاط ریگولیٹری مرحلے میں ہے۔ مقامی سرمایہ کاروں کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ بین الاقوامی رجحانات ڈیجیٹل اثاثوں کے حق میں ہیں، لیکن پاکستان میں ان کی قانونی حیثیت اب بھی مقامی تعمیل اور پی وی اے آر اے (PVARA) کے رہنما خطوط کے تابع ہے۔ پاکستانی صارفین کو ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز کا استعمال جاری رکھنا چاہیے اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بین الاقوامی قانونی تبدیلیاں خود بخود ملکی ریگولیٹری ماحول کو تبدیل نہیں کرتیں۔

عالمی ریگولیٹری رجحانات جنوبی کوریا میں یہ قانون سازی ایک بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کو اجاگر کرتی ہے جہاں ممالک پابندیوں کے بجائے منظم فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل اثاثوں کو قومی قانون میں ضم کرکے، جنوبی کوریا ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو جدت اور مالی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے جو فی الحال اپنی ڈیجیٹل اثاثہ سازی کے قوانین تیار کر رہے ہیں۔