Lawson کا اسٹیبل کوائن ادائیگیوں کا پائلٹ پروجیکٹ
جاپان کی معروف کنوینینس اسٹور چین Lawson نے جاپانی ین سے منسلک اسٹیبل کوائن (JPYC) کے ذریعے ادائیگیوں کو ٹیسٹ کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔ The Block کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی KDDI اور کرپٹو والیٹ فراہم کرنے والی کمپنی HashPort کا تعاون شامل ہے تاکہ ریٹیل ماحول میں اسٹیبل کوائن ٹیکنالوجی کو مربوط کیا جا سکے۔
پائلٹ پروجیکٹ میں شامل شراکت دار
یہ منصوبہ تین مختلف شعبوں، ریٹیل، ٹیلی کمیونیکیشن اور بلاک چین سروسز کو یکجا کرتا ہے۔ KDDI انفراسٹرکچر سپورٹ فراہم کر رہی ہے، جبکہ HashPort اسٹیبل کوائن ٹرانزیکشنز کے لیے درکار کرپٹو والیٹ انٹیگریشن کو آسان بنا رہی ہے۔ The Block کی رپورٹ کے مطابق، اس پائلٹ کا مقصد Lawson کے موجودہ ریٹیل آپریشنز میں JPYC کے تکنیکی نفاذ کو جانچنا ہے۔
جاپان میں ڈیجیٹل کرنسی کا رجحان
جاپان اپنے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل اثاثوں کے انضمام میں مسلسل دلچسپی لے رہا ہے۔ Lawson اور KDDI جیسی مستند کارپوریشنز کی اس پائلٹ میں شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ ریٹیل ماحول میں اسٹیبل کوائنز کی افادیت کا جائزہ لینے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ پروجیکٹ JPYC کے عملی استعمال پر مرکوز ہے، جو کہ جاپانی ین سے منسلک ایک اسٹیبل کوائن ہے، تاکہ پوائنٹ آف سیل سسٹمز پر لین دین کو آسان بنایا جا سکے۔
پاکستان کے لیے اثرات
پاکستان کا مالیاتی شعبہ فی الحال ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ایک الگ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ اگرچہ Lawson کا یہ پروجیکٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اسٹیبل کوائنز ریٹیل ماحول میں کیسے کام کرتے ہیں، لیکن اس کا پاکستانی مارکیٹ پر کوئی فوری یا براہ راست اثر نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت مقامی ریگولیٹرز ڈیجیٹل فنانس کے عالمی رجحانات کی نگرانی کر رہے ہیں اور اپنی ملکی پالیسیاں وضع کر رہے ہیں۔ مقامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے یہ پیش رفت ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کے ساتھ جاری عالمی تجربات کو اجاگر کرتی ہے، تاہم یہ پاکستان کے موجودہ ریگولیٹری منظر نامے سے الگ ہے۔
دستبرداری
یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ قارئین کو ڈیجیٹل اثاثوں یا بلاک چین ٹیکنالوجیز میں شامل ہونے سے پہلے اپنی تحقیق خود کرنی چاہیے۔
پاکستانی قارئین کے لیے یہ پائلٹ اس بات کی ایک عالمی مثال ہے کہ کس طرح ریٹیل چینز اسٹیبل کوائن انٹیگریشن کو تلاش کر رہی ہیں، حالانکہ مقامی ریگولیٹری حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔













