اسٹریٹجک فنڈنگ کا سنگ میل
جاپانی اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنی JPYC نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے سیریز بی فنڈنگ کے توسیعی راؤنڈ میں 38 ملین ڈالر کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔ دی بلاک کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی اس نئی سرمایہ کاری کو اپنی مالیاتی خدمات اور وسیع تر ویب 3 ایکو سسٹم کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرے گی۔ نومبر 2021 میں اپنے قیام کے بعد سے سات مختلف فنڈنگ راؤنڈز کے ذریعے ٹوکیو میں قائم اس فرم کی جانب سے اکٹھی کی گئی کل رقم اب 106 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
سرمایہ کاری کی قیادت
کوائن ڈیسک نے رپورٹ کیا کہ اس سرمایہ کاری راؤنڈ کی قیادت جاپان کی ایک بڑی لاجسٹک کارپوریشن، اے زیڈ-کوم مارووا (AZ-COM Maruwa) نے کی۔ ایک روایتی لاجسٹک کمپنی کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیر کرپٹو شعبوں میں اسٹیبل کوائن ٹیکنالوجی کے حوالے سے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ قائم شدہ صنعتی اداروں کے ساتھ انضمام کے ذریعے، JPYC کا مقصد اپنے ین سے منسلک اسٹیبل کوائن کو حقیقی تجارتی استعمال کے لیے فروغ دینا ہے۔
ویب 3 ایکو سسٹم کی توسیع
کرنسی کے اجرا سے ہٹ کر، JPYC خود کو جاپان کے ڈیجیٹل اثاثوں کے انفراسٹرکچر میں ایک اہم ستون کے طور پر مستحکم کر رہی ہے۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ وہ اس رقم کو اپنے تکنیکی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور روایتی مالیاتی نظام اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس پروٹوکولز کے درمیان انٹرآپریبلٹی کو بڑھانے کے لیے استعمال کرے۔ یہ اقدام جاپان کی اس وسیع تر ریگولیٹری کوشش سے مطابقت رکھتا ہے جس کا مقصد اسٹیبل کوائنز کی حیثیت کو واضح کرنا اور بلاک چین کے شعبے میں مقامی جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
پاکستانی ہولڈرز کے لیے سیاق و سباق
پاکستانی کرپٹو شائقین اور سرمایہ کاروں کے لیے، JPYC کی ترقی اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح اسٹیبل کوائنز فیاٹ اور بلاک چین کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے ارتقا پذیر ہیں۔ اگرچہ JPYC فی الحال جاپانی ین پر مرکوز ہے، لیکن عالمی سطح پر ریگولیٹڈ اور فیاٹ سے منسلک اسٹیبل کوائنز کا عروج مقامی سطح پر ممکنہ پیش رفت کے لیے ایک خاکہ فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی صارفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کرپٹو اثاثوں پر محتاط موقف برقرار رکھے ہوئے ہے اور فی الحال اسٹیبل کوائنز کے مقامی اجرا یا سرکاری استعمال کے لیے کوئی قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے۔ اس لیے، بین الاقوامی اسٹیبل کوائن پروجیکٹس کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق ایف بی آر (FBR) کی ٹیکس رپورٹنگ کی ضروریات کی تعمیل کو یقینی بنائیں۔
مستقبل کا نقطہ نظر
جیسے جیسے JPYC کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے، لاجسٹک اور ریٹیل کے شعبوں کے ساتھ اس کا انضمام اسٹیبل کوائن مارکیٹ کے مبصرین کے لیے ایک اہم اشارہ ثابت ہوگا۔ یہ کمپنی جاپانی کرپٹو منظر نامے میں سب سے زیادہ فنڈز حاصل کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو مستحکم اثاثوں کی افادیت پر سرمایہ کاروں کے پائیدار اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح کے پروجیکٹس کی جاری توسیع یہ بتاتی ہے کہ ٹوکنائزڈ فیاٹ کرنسیوں کی جانب عالمی منتقلی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں میں کافی رفتار پکڑ رہی ہے۔
پاکستان کے کرپٹو ہولڈرز کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ عالمی سطح پر ریگولیٹڈ اسٹیبل کوائنز کا ارتقا مالیاتی ٹیکنالوجی کے مستقبل کو تشکیل دے رہا ہے، تاہم مقامی سطح پر کسی بھی سرمایہ کاری کے لیے قانونی ضوابط اور ٹیکس قوانین کی مکمل آگاہی ضروری ہے۔

















