Hyundai کا کراس بارڈر اسٹیبل کوائن پائلٹ
Hyundai نے Tether کے USDT کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور میکسیکو میں اپنی ذیلی کمپنیوں کے درمیان کراس بارڈر ٹریژری ٹرانسفر کا ایک پروف آف کنسیپٹ مکمل کر لیا ہے۔ Cointelegraph کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بڑی کمپنیاں بین الاقوامی ٹریژری آپریشنز کے لیے اسٹیبل کوائنز کے استعمال میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ اس پائلٹ کا مقصد علاقائی کارپوریٹ اداروں کے درمیان فنڈز کی منتقلی کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کے عملی اطلاق کو جانچنا تھا۔
ڈیجیٹل اثاثوں کو کارپوریٹ سطح پر اپنانا
اسٹیبل کوائنز، جو کہ فیاٹ کرنسیوں کی قدر سے منسلک ڈیجیٹل اثاثے ہیں، کو مختلف کمپنیاں ٹریژری مینجمنٹ کے لیے جانچ رہی ہیں۔ جہاں روایتی کراس بارڈر ادائیگیاں اکثر قائم شدہ بینکنگ نیٹ ورکس پر انحصار کرتی ہیں، وہیں Hyundai کا یہ پائلٹ اس بات کی مثال ہے کہ کمپنیاں سیٹلمنٹ کے متبادل طریقوں کا تجربہ کر رہی ہیں۔ یہ منصوبہ ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن کی جانب سے داخلی مالیاتی لاجسٹکس کے لیے بلاک چین پر مبنی انفراسٹرکچر کو تلاش کرنے کی ایک خاص مثال ہے۔
پاکستان میں ریگولیٹری صورتحال
پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے ریگولیٹری ماحول بدستور محتاط ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے مالیاتی لین دین کے لیے کرپٹو کرنسیوں کے استعمال پر سخت موقف برقرار رکھا ہوا ہے۔ فی الحال کوئی ایسا قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے جو پاکستانی کاروباروں کو کارپوریٹ ٹریژری سیٹلمنٹ یا بین الاقوامی تجارت کے لیے USDT جیسے اسٹیبل کوائنز استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ اگرچہ عالمی کمپنیاں ان ٹیکنالوجیز کا تجربہ کر رہی ہیں، مقامی اداروں کو SBP کی جانب سے طے کردہ موجودہ بینکنگ اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز کے اندر رہ کر کام کرنا ہوگا۔
مارکیٹ کا مشاہدہ
یہ پائلٹ پروگرام کارپوریٹ ٹریژری کے فرائض کے لیے ڈیجیٹل کرنسیوں کی افادیت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے جیسے کمپنیاں ان تجربات کو جاری رکھے ہوئے ہیں، صنعت یہ دیکھ رہی ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کس طرح موجودہ مالیاتی نظام کے ساتھ ضم ہو سکتی ہے یا اس کے ساتھ کام کر سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی معیارات پر اس طرح کے پائلٹس کے طویل مدتی اثرات ابھی دیکھنا باقی ہیں کیونکہ کمپنیاں ان ڈیجیٹل ٹولز کی کارکردگی اور تعمیلی تقاضوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
خلاصہ
Hyundai کی جانب سے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان USDT ٹریژری سیٹلمنٹ پائلٹ کی تکمیل ملٹی نیشنل فرموں کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں کی جاری تلاش کو اجاگر کرتی ہے۔ پاکستانی قارئین کے لیے، یہ پیشرفت ایک عالمی صنعتی اپ ڈیٹ ہے، تاہم مقامی کاروباروں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ موجودہ قومی ضوابط تجارتی یا ٹریژری لین دین کے لیے اسٹیبل کوائنز کے استعمال کی حمایت نہیں کرتے۔













