مالیات اور ٹیکنالوجی کا نیا سنگم

جنوبی کوریا کے معروف کرپٹو ایکسچینج Dunamu، جو Upbit کا آپریٹر ہے، نے 24 اکتوبر 2024 کو عالمی ادائیگیوں کے ادارے Visa کے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ The Block کے مطابق، اس تعاون کا بنیادی مقصد مالیاتی ایکو سسٹم میں اسٹیبل کوائنز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے عملی اطلاق کو تلاش کرنا ہے۔ یہ اقدام Visa کے وسیع پیمنٹ انفراسٹرکچر اور Dunamu کی ڈیجیٹل اثاثوں میں مہارت کو یکجا کر کے سرحد پار مالیاتی لین دین کو مزید موثر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

Open USD کا ممکنہ انضمام

اس شراکت داری کا ایک اہم حصہ Open Standard کی جانب سے تیار کردہ اسٹیبل کوائن Open USD کا ممکنہ استعمال ہے۔ Dunamu نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کا مرکز یہ ہوگا کہ کس طرح اسٹیبل کوائنز روایتی بینکنگ سسٹم اور بلاک چین معیشت کے درمیان خلیج کو ختم کر سکتے ہیں۔ اسٹیبل کوائن ٹیکنالوجی کو ضم کرنے سے دونوں کمپنیاں ڈیجیٹل اثاثوں کے صارفین کے لیے لین دین کی رفتار بڑھانے اور اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کا کردار

اسٹیبل کوائنز کے علاوہ، یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت کے اطلاق پر بھی کافی وسائل خرچ کرے گی۔ دونوں کمپنیاں اس بات کا جائزہ لیں گی کہ AI کس طرح سیکیورٹی پروٹوکولز کو بہتر بنا سکتا ہے، تعمیل (compliance) کے عمل کو خودکار کر سکتا ہے، اور ڈیجیٹل اثاثوں کے پلیٹ فارمز پر صارف کے تجربے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ AI پر یہ توجہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ساتھ انضمام کے دوران رسک مینجمنٹ کو خودکار بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے اثرات

پاکستان میں کرپٹو کے شوقین افراد کے لیے یہ شراکت داری تبادلے کے ذریعہ کے طور پر اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت مقامی ضوابط کرپٹو سے فیاٹ (fiat) میں براہ راست تبدیلی کے حوالے سے محتاط ہیں، لیکن Visa جیسی کمپنیوں کی جانب سے اسٹیبل کوائنز کا عالمی استعمال مستقبل میں بین الاقوامی ترسیلات زر کے معیارات کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی ہولڈرز کو ان عالمی پیمنٹ ریلز کے ارتقاء پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ مستقبل میں سرحد پار منتقلی کے لیے زیادہ مستحکم اور قانونی راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ فی الحال، صارفین کو مقامی مالیاتی قوانین کی حدود میں رہنا چاہیے اور فنڈز کی منتقلی کے لیے تھرڈ پارٹی پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتنی چاہیے۔

ادارہ جاتی اپنانے کی جانب پیش قدمی

Dunamu اور Visa کے درمیان یہ شراکت داری وسیع تر مالیاتی صنعت کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ جیسے جیسے عالمی پیمنٹ کمپنیاں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربات کر رہی ہیں، روایتی بینکنگ اور ڈیجیٹل اثاثوں کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ ریٹیل صارفین پر اس کا فوری اثر محدود ہے، لیکن طویل مدتی مقصد ایک ایسا مربوط عالمی مالیاتی نیٹ ورک بنانا ہے جو ڈیجیٹل کرنسی کے بڑے پیمانے پر استعمال کی حمایت کر سکے۔ سرمایہ کاروں کو اس بات پر گہری نظر رکھنی چاہیے کہ آنے والے سالوں میں یہ پائلٹ پروگرام کس طرح صارفین کے لیے مصنوعات کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

جیسے جیسے عالمی پیمنٹ نیٹ ورکس اسٹیبل کوائن ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں، پاکستانی صارفین کو چاہیے کہ وہ مقامی ریگولیٹری اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں تاکہ ان کی ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیاں قومی مالیاتی پالیسیوں کے مطابق رہیں۔