AI اور بلاک چین کا امتزاج

20 اکتوبر 2024 کو Coinbase کے سی ای او برائن آرمسٹرانگ نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کا تیزی سے فروغ کرپٹو کرنسی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک معاون عنصر ہے۔ آرمسٹرانگ نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ کمپنیوں کو بلاک چین سے توجہ ہٹا کر مکمل طور پر AI پر مرکوز ہو جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، یہ دونوں ٹیکنالوجیز فطری طور پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور مستقبل میں ایک زیادہ مربوط مالیاتی نظام کی بنیاد بنیں گی۔

AI ایجنٹس: نئے مالیاتی صارفین

BeInCrypto کی رپورٹ کے مطابق، آرمسٹرانگ نے اس بات پر زور دیا کہ خود مختار AI ایجنٹس جلد ہی کرپٹو نیٹ ورکس کے سب سے بڑے صارفین بن جائیں گے۔ ان ایجنٹس کو ایسے تبادلے کے ذرائع کی ضرورت ہے جو مشین کی رفتار سے کام کر سکیں اور روایتی بینکنگ نظام کی رکاوٹوں سے آزاد ہوں۔ بلاک چین نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے، یہ ڈیجیٹل ادارے خود مختار طریقے سے ادائیگیاں کرنے، تجارت میں حصہ لینے اور مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

مشین کی رفتار سے ادائیگیوں کا ڈھانچہ

Bitcoin.com News کے مطابق، Coinbase اس رجحان کی حمایت کے لیے اپنی بنیادی سہولیات کو فعال کر رہا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ AI ایجنٹس زیادہ تر USDC جیسے سٹیبل کوائنز، Base لیئر-2 نیٹ ورک، اور x402 پروٹوکول پر انحصار کریں گے تاکہ لین دین کو ہموار بنایا جا سکے۔ یہ تبدیلی انسانی مرکزیت والے مالیاتی نظام سے مشین سے مشین تک کی معیشت کی طرف ایک اہم قدم ہے، جہاں بلاک چین اعتماد اور تصفیے کی تہہ فراہم کرتی ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلاک چین کس طرح عالمی ڈیجیٹل خدمات کے ساتھ ضم ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے، خودکار نظاموں کی جانب سے سرحد پار ترسیلاتِ زر یا مائیکرو پیمنٹس کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت مقامی صارفین کے لیے اخراجات میں کمی لا سکتی ہے۔ تاہم، پاکستانی سرمایہ کاروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے موجودہ ریگولیٹری ماحول سے آگاہ رہنا چاہیے۔ اگرچہ مقامی ایکسچینجز بڑے اثاثوں تک رسائی فراہم کرتی ہیں، لیکن AI پر مبنی کرپٹو ادائیگیوں کا انضمام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور مقامی مالیاتی منظرنامے کا مرکزی حصہ نہیں ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آرمسٹرانگ کا خیال ہے کہ کرپٹو اور AI کا انضمام سافٹ ویئر ایجنٹس کے لیے شناخت اور ادائیگیوں تک رسائی کے بنیادی مسائل کو حل کرے گا۔ جیسے جیسے یہ ایجنٹس والٹس رکھنے اور کاروبار کرنے کی صلاحیت حاصل کریں گے، غیر مرکزی اور سرحدوں سے آزاد ادائیگی کے ذرائع کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یہ ارتقاء ظاہر کرتا ہے کہ بلاک چین کی افادیت محض قیاس آرائی پر مبنی تجارت یا اثاثوں کو محفوظ رکھنے تک محدود نہیں رہے گی۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ عالمی سطح پر AI اور کرپٹو کا انضمام بین الاقوامی ادائیگی کے معیارات کو کیسے متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ تبدیلیاں بالآخر اس بات پر اثر انداز ہوں گی کہ ڈیجیٹل اثاثے سرحد پار لین دین کے لیے کیسے استعمال ہوتے ہیں۔