24/7 بینکنگ کے لیے ایک سنگ میل
Citi اور DBS نے کامیابی کے ساتھ سنگاپور اور امریکہ کے درمیان ہفتہ وار تعطیل کے دوران پہلی لائیو کراس بارڈر USD سیٹلمنٹ مکمل کر لی ہے۔ The Block کی رپورٹس کے مطابق، اس لین دین میں ٹوکنائزڈ ڈیپازٹس کا استعمال کیا گیا تاکہ بینکنگ کے روایتی اوقات کی ان حدود کو عبور کیا جا سکے جو عام طور پر بین الاقوامی منتقلی کو صرف کاروباری دنوں تک محدود رکھتی ہیں۔ یہ کامیابی Swift کے بلاک چین پر مبنی لیجر کا دوسرا تصدیق شدہ لائیو استعمال ہے، جسے عالمی مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
Swift کے ڈیجیٹل لیجر کا کردار
یہ اقدام Swift کی ان کوششوں کو اجاگر کرتا ہے جن کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اس دور میں اپنی فعالیت کو برقرار رکھنا ہے جو مسلسل کام کرتے ہیں۔ CoinDesk کی رپورٹ کے مطابق، ٹوکنائزڈ ڈیپازٹس کو اپنے موجودہ نیٹ ورک میں شامل کر کے Swift یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ روایتی مالیاتی ادارے بھی وکندریقرت متبادلات کی طرح تیز رفتار اور قابل رسائی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ تعاون ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح پرانے نظام بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنا کر عالمی مالیاتی مراکز کے درمیان فوری اور ہمہ وقتی سیٹلمنٹ کی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔
مالیاتی کارکردگی کے مضمرات
سرحد پار روایتی ادائیگیاں اکثر نامہ نگار بینکنگ نیٹ ورکس اور کلیئرنگ ہاؤس کے اوقات کار پر انحصار کی وجہ سے نمایاں تاخیر کا شکار رہتی ہیں۔ Cointelegraph کے مطابق، ٹوکنائزڈ ڈیپازٹس کا فائدہ اٹھا کر Citi اور DBS نے سیٹلمنٹ کے اوقات اور آپریشنل مشکلات کو کم کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ کامیاب تجربہ دیگر عالمی بینکوں کے لیے ایک قابل توسیع ماڈل فراہم کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی سرحدوں کے پار لیکویڈیٹی کے انتظام کے طریقے بدل سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے تناظر
پاکستان کے کرپٹو ہولڈرز اور مالیاتی اداروں کے لیے، یہ پیش رفت عالمی بینکنگ سیکٹر میں ٹوکنائزڈ اثاثوں کی طرف ایک وسیع منتقلی کا اشارہ ہے۔ اگرچہ اس مخصوص پائلٹ پروجیکٹ میں بڑے بین الاقوامی بینک شامل ہیں، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں ترسیلات زر کے ذرائع روایتی SWIFT میسجنگ سے ہٹ کر بلاک چین پر مبنی سیٹلمنٹ کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، پاکستانی صارفین روایتی بینکنگ چینلز یا خصوصی ترسیلاتِ زر کی خدمات پر انحصار کرتے ہیں جو اکثر ہفتہ وار تعطیلات پر بند رہتی ہیں۔ اگر اس طرح کا ٹوکنائزڈ انفراسٹرکچر عالمی معیار بن جاتا ہے، تو یہ بالآخر پاکستانی تارکین وطن کے لیے تیز تر اور شفاف ترسیلاتِ زر کا باعث بن سکتا ہے، حالانکہ مقامی سطح پر اس کا نفاذ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط اور PVARA فریم ورک کی ارتقاء سے مشروط رہے گا۔
ٹوکنائزیشن کا مستقبل
اس لین دین کی کامیابی وسیع تر بینکنگ انڈسٹری کے لیے ایک ثبوت کے طور پر کام کرتی ہے۔ جیسے جیسے مزید ادارے ٹوکنائزڈ ڈیپازٹس کا تجربہ کریں گے، توجہ ریگولیٹری تعمیل اور مختلف بلاک چین نیٹ ورکس کے درمیان باہمی تعاون پر مرکوز ہو جائے گی۔ اگرچہ یہ ایک اہم تکنیکی پیش رفت ہے، لیکن عالمی مالیاتی برادری یہ دیکھتی رہے گی کہ یہ پائلٹ پروگرام بین الاقوامی تجارت اور ذاتی بینکنگ کے لیے طویل مدتی نظامی تبدیلیوں میں کیسے ڈھلتے ہیں۔
جیسے جیسے عالمی بینکنگ ٹوکنائزڈ سیٹلمنٹ کی طرف منتقل ہو رہی ہے، پاکستانی سرمایہ کاروں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ یہ کارکردگی کیسے بالآخر بین الاقوامی مالیاتی خدمات کی رفتار اور لاگت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

















