ڈیجیٹل ون کی توسیع
بینک آف کوریا ستمبر میں اپنے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) پائلٹ پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ کوائن ٹیلی گراف کی رپورٹس کے مطابق، یہ توسیع ملک کی جانب سے بلاک چین ٹیکنالوجی اور ٹوکنائزڈ اثاثوں کے ذریعے اپنے مالیاتی ڈھانچے کو جدید بنانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔
اس آئندہ مرحلے میں ٹیسٹنگ کے ماحول میں دو اضافی علاقائی بینکوں کو شامل کیا جائے گا۔ شریک اداروں کے دائرہ کار کو وسیع کر کے، مرکزی بینک یہ جانچنا چاہتا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی ملک کے مختلف بینکنگ سسٹمز اور تکنیکی آرکیٹیکچر میں کس طرح کام کرتی ہے۔
نئی خصوصیات اور سبسڈی کی جانچ
اس دوسرے مرحلے کا ایک مرکزی حصہ عوامی شعبے کے لین دین میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی جدید ادائیگی کی خصوصیات کا تعارف ہے۔ یہ پائلٹ خاص طور پر ٹوکنائزڈ بینک ڈپازٹس کا استعمال کرتے ہوئے حکومتی سبسڈی کی تقسیم کی جانچ کرے گا، جس سے فلاحی ادائیگیوں اور دیگر عوامی فنڈز کی ترسیل کو ہموار کرنے کی توقع ہے۔
ٹوکنائزڈ ڈپازٹس کا استعمال کرتے ہوئے، بینک آف کوریا یہ اندازہ لگانا چاہتا ہے کہ آیا ڈیجیٹل اثاثے انتظامی اخراجات کو کم کر سکتے ہیں اور مالیاتی منتقلی کی رفتار کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر ان عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے جہاں مرکزی بینک مالیاتی پالیسی پر عمل درآمد اور شفافیت کو بڑھانے کے لیے پروگرام کے قابل رقم (programmable money) کی تلاش کر رہے ہیں۔
CBDC ترقی کا عالمی تناظر
جنوبی کوریا ڈیجیٹل کرنسی کی تحقیق کے حوالے سے ایشیا پیسیفک خطے کے سب سے فعال ممالک میں شامل ہے۔ جبکہ بہت سے ممالک ابھی بھی تصوراتی یا محدود ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہیں، بینک آف کوریا نے مستقل طور پر اپنے پائلٹ پروگراموں کے ذریعے عملی اطلاق کی جانب پیش قدمی کی ہے۔
یہ ٹیسٹ سائبر سیکیورٹی کے خطرات اور موجودہ کمرشل بینکنگ ماڈلز پر اثرات سمیت ممکنہ خدشات کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ستمبر کے اس پائلٹ کے نتائج مستقبل میں ممکنہ قومی سطح پر نفاذ کے لیے درکار ریگولیٹری فریم ورک کی بنیاد بنیں گے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور مالیاتی مبصرین کے لیے، جنوبی کوریا کا CBDC پروجیکٹ مرکزی بینک کی زیر قیادت جدت طرازی کے لیے ایک کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے ابھی تک کوئی سرکاری ڈیجیٹل کرنسی شروع نہیں کی ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ماضی میں مالی شمولیت کو بہتر بنانے اور ادائیگی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹل روپیہ کے امکانات تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
فی الحال، جنوبی کوریا کے پائلٹ کا پاکستانی روپیہ یا مقامی کرپٹو ایکسچینجز پر کوئی براہ راست اثر نہیں ہے۔ تاہم، بڑی معیشتوں میں ہونے والی پیش رفت اکثر ڈیجیٹل اثاثوں کے ریگولیشن کے بین الاقوامی معیارات کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو ان عالمی تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ یہ مستقبل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اپنی ڈیجیٹل فنانس پالیسیوں کو ترتیب دیتے وقت تعمیل کے تقاضوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ
تجرباتی ٹیسٹنگ سے حقیقی دنیا میں حکومتی سبسڈی کی تقسیم کی طرف منتقلی، یوٹیلیٹی پر مبنی ڈیجیٹل اثاثوں کی جانب ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ جیسے جیسے بینک آف کوریا اپنی تحقیق جاری رکھے گا، عالمی مالیاتی برادری یہ دیکھے گی کہ آیا ٹوکنائزڈ ڈپازٹس مالیاتی استحکام کو متاثر کیے بغیر روایتی ریٹیل بینکنگ سسٹمز کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔
آخرکار، اس پائلٹ کی کامیابی دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں کے لیے ایک نمونہ فراہم کر سکتی ہے جو مرکزی بینک کی نگرانی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی قومی کرنسیوں کو ڈیجیٹل بنانا چاہتی ہیں۔
پاکستانی قارئین کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کے معیارات بن رہے ہیں جن پر مستقبل میں مقامی ریگولیٹرز کا انحصار ہو سکتا ہے۔














