مالیاتی سیٹلمنٹ کو جدید بنانا

BNY Mellon نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2024 کے اختتام تک نجی بلاک چین پر امریکی ٹریژریز کی آزمائش شروع کرے گا۔ CoinDesk کے مطابق، اس اقدام کا مقصد روایتی ہفتہ وار تعطل کو ختم کرنا ہے جو فی الحال سرکاری سیکیورٹیز کی سیٹلمنٹ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ان اثاثوں کو ڈسٹری بیوٹڈ لیجر پر منتقل کر کے، بینک کا ہدف ادارہ جاتی کلائنٹس کے لیے 24/7 مالیاتی نظام فراہم کرنا ہے۔

یہ پیش رفت عالمی مالیاتی نظام کی بنیادوں میں بلاک چین ٹیکنالوجی کو ضم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ بینک اپنے سیٹلمنٹ نیٹ ورک کو وسیع تر بین الاقوامی تجارتی اوقات تک پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ روایتی بینکنگ سسٹم اور جدید ڈیجیٹل اثاثوں کے بنیادی ڈھانچے کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکے۔ ٹریژریز کو ڈیجیٹل بنا کر، BNY Mellon مارکیٹ کے شرکاء کے لیے لیکویڈیٹی اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔

ٹوکنائزیشن کی جانب منتقلی

مالیاتی صنعت اثاثوں کی منتقلی میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے ٹوکنائزیشن کو ایک مؤثر طریقہ کار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ٹوکنائزیشن قیمتی اثاثوں کی فریکشنل ملکیت اور فوری منتقلی کی اجازت دیتی ہے، جو عام طور پر سست اور دستی سیٹلمنٹ کے عمل تک محدود ہوتے ہیں۔ نجی بلاک چین کا استعمال کرتے ہوئے، بینک سیکیورٹی اور تعمیل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتا ہے جبکہ خودکار اسمارٹ کنٹریکٹس کی رفتار سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔

مارکیٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی دیگر بڑے مالیاتی اداروں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتی ہے۔ جیسے جیسے سیٹلمنٹ کا وقت کم ہوگا، سرمایہ کاری کی لاگت میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے پورٹ فولیو کے انتظام کے انداز پر اثر پڑ سکتا ہے۔ توجہ ایک ایسے محفوظ ماحول کی تشکیل پر ہے جو روایتی بینکنگ کی وشوسنییتا کو برقرار رکھتے ہوئے وکندریقرت نیٹ ورکس کی چستی کو اپنا سکے۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اثرات

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے، BNY Mellon کی جانب سے ٹوکنائزڈ امریکی ٹریژریز کا قیام ایک مربوط عالمی مارکیٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو فی الحال ان مخصوص ادارہ جاتی ٹوکنائزڈ مصنوعات تک محدود رسائی حاصل ہے، لیکن یہ اقدام روایتی اثاثوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے وسیع رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جیسے عالمی مالیاتی نظام موثر ہوتا جائے گا، سرحد پار لیکویڈیٹی میں بہتری کا امکان موجود ہے۔

تاہم، پاکستانی ہولڈرز کو مقامی ریگولیٹری ماحول سے آگاہ رہنا چاہیے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹوکنائزڈ غیر ملکی سیکیورٹیز کے ساتھ کسی بھی لین دین کو مقامی فارن ایکسچینج قوانین اور ورچوئل اثاثوں کے فریم ورک کے مطابق ہونا چاہیے۔ فی الحال، مقامی ایکسچینجز ایسی ادارہ جاتی مصنوعات پیش نہیں کرتیں، لہذا صارفین کو موجودہ مالیاتی قوانین کی پاسداری کو ترجیح دینی چاہیے۔

مستقبل کا منظرنامہ

ان آزمائشوں کی کامیابی اس بات کا تعین کرے گی کہ دیگر عالمی بینک کتنی تیزی سے اسی طرح کے بنیادی ڈھانچے کو اپناتے ہیں۔ اگر BNY Mellon یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ ٹوکنائزڈ ٹریژریز بینکنگ کے معیاری اوقات کے باہر بھی محفوظ طریقے سے کام کر سکتی ہیں، تو یہ 24/7 مالیاتی معیشت کی جانب عالمی منتقلی کو تیز کر سکتا ہے۔ یہ ارتقاء ادارہ جاتی سطح پر کرپٹو کے نفاذ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔

جیسے جیسے عالمی مالیاتی ادارے 24/7 ٹوکنائزڈ سیٹلمنٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں، پاکستانی سرمایہ کاروں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ تکنیکی تبدیلیاں بین الاقوامی ترسیلات زر کی لاگت اور ڈیجیٹل اثاثوں تک رسائی پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔