AI اور بلاکچین کا امتزاج
بٹ وائز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن نے حال ہی میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ مستقبل قریب میں بلاکچین نیٹ ورکس کے کام کرنے کے انداز میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ دی بلاک (The Block) کی رپورٹ کے مطابق، ہوگن کا ماننا ہے کہ موجودہ مارکیٹ کے شرکاء ٹرانزیکشنز میں اضافے کی صلاحیت کو بہت کم سمجھ رہے ہیں، اور ان کا اندازہ ہے کہ یہ حجم موجودہ سطح سے 10 سے 100 گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ اس متوقع اضافے کی بنیادی وجہ خودکار آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ایجنٹس اور ٹوکنائزڈ مالیاتی منڈیوں کا آپس میں جڑنا ہے۔
AI ایجنٹس کیوں اہم ہیں
انسانی صارفین کے برعکس جو بلاکچین انٹرفیس کے ساتھ ایک محدود رفتار سے تعامل کرتے ہیں، AI ایجنٹس مشین کی رفتار سے کام کرتے ہیں۔ ان ایجنٹس کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے تیز رفتار، سرحدوں سے آزاد اور قابلِ پروگرام ادائیگی کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے جیسے AI سسٹمز مالیاتی پورٹ فولیوز کا انتظام سنبھالیں گے، تجارت کریں گے اور معاہدوں کو خودکار طریقے سے طے کریں گے، بلاکچین پر مبنی ٹرانزیکشنز کی طلب میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔
حقیقی دنیا کے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اس ترقی کے لیے ایک پل کا کام کرتی ہے۔ روایتی مالیاتی آلات کو بلاکچین پر لانے سے یہ اثاثے قابلِ پروگرام بن جاتے ہیں۔ جب AI ایجنٹس کو ان ٹوکنائزڈ مارکیٹس تک رسائی دی جاتی ہے، تو وہ ایسی ہائی فریکوئنسی کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں جو پرانے بینکنگ سسٹمز پر ناممکن یا غیر مؤثر ہوتی ہیں۔
مارکیٹ پر اثرات کا جائزہ
صنعتی تجزیہ کار طویل عرصے سے قیاس آرائی پر مبنی تجارت سے ہٹ کر بلاکچین ٹیکنالوجی کی افادیت پر بحث کر رہے ہیں۔ AI کا انضمام ایک ایسے بنیادی ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں بلاکچینز مشین ٹو مشین کامرس کے لیے بنیادی تصفیہ کی تہہ (settlement layer) کے طور پر کام کریں گے۔ اگر یہ پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں، تو بڑے لیئر ون اور لیئر ٹو نیٹ ورکس کی بنیادی قدر محض ویلیو سٹور کرنے سے بدل کر ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک ضروری یوٹیلیٹی لیئر بن سکتی ہے۔
تاہم، یہ ترقی موجودہ نیٹ ورکس کی اسکیل ایبلٹی پر منحصر ہے۔ بہت سے موجودہ بلاکچینز گیس فیس اور ٹرانزیکشن کی رفتار کے حوالے سے حدود کا سامنا کر رہے ہیں، جو خودکار ایجنٹس کو اپنانے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ڈویلپرز اب نیٹ ورکس کو اس قابل بنانے کے لیے شارڈنگ اور رول اپس جیسی تکنیکوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ مشین سے پیدا ہونے والے ٹریفک کے دباؤ کو برداشت کر سکیں۔
پاکستان کے لیے تناظر
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، یہ تبدیلی ڈیجیٹل اثاثوں کے عالمی انضمام کی طرف ایک قدم ہے۔ اگرچہ ایف بی آر (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تحت مقامی ریگولیٹری فریم ورک کرپٹو سے PKR میں براہ راست تبادلے کے حوالے سے محتاط ہیں، لیکن AI پر مبنی بلاکچین یوٹیلیٹی کا عروج بالآخر ترسیلاتِ زر اور سرحد پار ادائیگیوں کے طریقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر عالمی مالیاتی منڈیاں ٹوکنائزڈ تصفیے کی طرف منتقل ہوتی ہیں، تو پاکستانی کاروبار بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانے کے لیے ان پروٹوکولز کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں۔
فی الحال، اوسط پاکستانی صارف پر اس کا اثر بہت کم ہے کیونکہ زیادہ تر مقامی سرگرمی قیاس آرائی پر مبنی تجارت تک محدود ہے۔ تاہم، جیسے جیسے عالمی AI ایجنٹس بلاکچین ٹریفک پر حاوی ہوں گے، مقامی ٹیک سٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والوں کے لیے مستحکم، تیز رفتار اور کم لاگت بلاکچین تک رسائی ایک ترجیح بن سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو اس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ یہ تکنیکی پیشرفت عالمی لیکویڈیٹی کو کیسے متاثر کرتی ہے، کیونکہ یہی چیز مقامی ڈیجیٹل والٹس میں موجود اثاثوں کی دستیابی اور استحکام کا تعین کرے گی۔
حتمی نتیجہ
جیسے جیسے AI ایجنٹس خودکار ٹرانزیکشنز کے لیے بلاکچین نیٹ ورکس کا استعمال شروع کریں گے، ٹرانزیکشنز کے حجم میں ہونے والا اضافہ پورے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے ایکو سسٹم کی افادیت اور قدر کو نئی شکل دے سکتا ہے۔













