BIS کا سٹیبل کوائنز پر تنقیدی جائزہ
بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS) نے 25 اکتوبر کو عالمی مالیاتی نظام میں سٹیبل کوائنز کے مستقبل کے حوالے سے ایک سخت جائزہ جاری کیا ہے۔ BIS کی جانب سے بات کرتے ہوئے پابلو ہرنینڈز ڈی کوس نے کہا کہ سٹیبل کوائنز میں فی الحال وہ ساکھ موجود نہیں ہے جو انہیں بڑے پیمانے پر ادائیگیوں کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بنا سکے۔ BIS کے مطابق، ان ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ خطرات انہیں روایتی خودمختار کرنسیوں کا متبادل بننے کے لیے غیر موزوں بناتے ہیں۔
ریگولیٹری فرق اور ممکنہ خطرات
فنانشل سٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ (FSI) کی ایک حالیہ تحقیق میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مختلف ممالک میں سٹیبل کوائن جاری کرنے والوں کے لیے قوانین میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر یکسانیت کا فقدان ایک بکھرا ہوا منظرنامہ پیش کرتا ہے جہاں صارفین کے تحفظ کے معیارات ایک خطے سے دوسرے خطے میں بہت مختلف ہیں۔ BIS کا کہنا ہے کہ ایک مربوط بین الاقوامی فریم ورک کے بغیر، سٹیبل کوائنز لیکویڈیٹی کے بحرانوں اور شفافیت کے مسائل کا شکار رہیں گے جو وسیع تر مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
تکنیکی اور ساختی رکاوٹیں
BIS کے دلائل کا بنیادی مرکز سٹیبل کوائنز کا ساختی ڈیزائن ہے۔ اگرچہ یہ فیٹ کرنسیوں کے ساتھ منسلک (pegged) ہوتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے موجود کولٹرل مینجمنٹ اور ریڈیمپشن کے طریقہ کار اکثر غیر شفاف ہوتے ہیں۔ کوائن ٹیلی گراف اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، BIS کا کہنا ہے کہ فوری اور سستی عالمی ادائیگیوں کا وعدہ اکثر ڈی-پیگنگ (de-pegging) کے خطرات اور ناکافی ریزرو بیکنگ کی وجہ سے دھندلا جاتا ہے۔ یہ تکنیکی رکاوٹیں انہیں ایک قابل اعتماد اور ادارہ جاتی معیار کے ادائیگی کے نظام کا درجہ حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے؟
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، BIS کا یہ موقف سٹیبل کوائنز پر انحصار میں موجود خطرات کی یاد دہانی ہے۔ بہت سے مقامی صارفین پاکستانی روپے (PKR) کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے USDT جیسے سٹیبل کوائنز کو امریکی ڈالر کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، سٹیٹ بینک آف پاکستان یا فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے واضح ریگولیٹری فریم ورک نہ ہونے کے باعث صارفین ایک غیر محفوظ ماحول میں کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ سٹیبل کوائنز ترسیلات زر اور قدر کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک پل کا کام کرتے ہیں، لیکن BIS کی تنبیہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان پر بڑے مالیاتی معاملات کے لیے انحصار کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ BIS کی جانب سے بیان کردہ عالمی ریگولیٹری جانچ پڑتال مستقبل میں مقامی ایکسچینجز کی لیکویڈیٹی اور تعمیل کے طریقوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مستقبل کی سمت
سٹیبل کوائنز پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ مرکزی بینک اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں (CBDCs) پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ BIS کا موقف ہے کہ اگرچہ سٹیبل کوائنز کے پیچھے موجود ٹیکنالوجی جدید ہے، لیکن موجودہ ماڈلز عالمی ادائیگیوں کے نظام کے سخت معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ مستقبل کی پیش رفت کا مرکز غالباً سخت لائسنسنگ اور ریزرو کے تقاضے ہوں گے تاکہ اعتماد کے اس خلا کو پُر کیا جا سکے۔
پاکستانی صارفین کو چاہیے کہ وہ سٹیبل کوائنز کو صرف قلیل مدتی ضرورت کے لیے استعمال کریں اور عالمی ریگولیٹری تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں۔















