پروجیکٹ اگورا کا اہم سنگ میل

بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس (BIS) کی زیر نگرانی، 28 بڑے مالیاتی اداروں نے، جن میں جے پی مورگن، سٹی اور یو بی ایس شامل ہیں، چھ مختلف کرنسیوں میں حقیقی مالیت کی سیٹلمنٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پروجیکٹ اگورا کے نام سے شروع کیے گئے اس اقدام کے تحت 1 ملین ڈالر کے ٹوکنائزڈ اثاثوں کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے منتقل کیا گیا تاکہ بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کو جدید بنانے کی صلاحیت کو جانچا جا سکے۔ کوائن ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، اس پروجیکٹ نے مرکزی بینک کے ٹوکنائزڈ ذخائر کو کمرشل بینکوں کے ڈیپازٹس کے ساتھ ایک متحد لیجر سسٹم پر کامیابی سے مربوط کیا ہے۔

بین الاقوامی ادائیگیوں کی پیچیدگیوں کا حل

روایتی بین الاقوامی ادائیگیاں اکثر بکھرے ہوئے نظاموں، مختلف ٹائم زونز اور پیچیدہ بینکاری تعلقات کی وجہ سے سست روی اور زیادہ اخراجات کا شکار رہتی ہیں۔ پروجیکٹ اگورا کا مقصد اسمارٹ کانٹریکٹس کا استعمال کرتے ہوئے سیٹلمنٹ کے عمل کو خودکار بنانا ہے تاکہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ BIS کا ماننا ہے کہ پیسوں کو ٹوکنائز کرنے سے مالیاتی ادارے سخت ریگولیٹری نگرانی کے ساتھ فوری سیٹلمنٹ کے اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔

متحد لیجر کا تصور

کوائن ڈیسک کے مطابق، اس پائلٹ پروجیکٹ نے ثابت کیا ہے کہ ٹوکنائزیشن مختلف قومی کرنسیوں اور بینکنگ پلیٹ فارمز کے درمیان خلیج کو ختم کر سکتی ہے۔ اس تجربے کا مرکز ڈیجیٹل اثاثوں کی باہمی مطابقت (interoperability) تھا، تاکہ کمرشل بینک ٹوکنز کو مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ساتھ ہموار طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔ یہ آرکیٹیکچر روایتی پیغام رسانی کے نظام جیسے کہ SWIFT پر انحصار کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس پر اب جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کا دباؤ ہے۔

پاکستان کے لیے مضمرات

پاکستان میں کرپٹو اثاثے رکھنے والوں اور مالیاتی شعبے کے لیے یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ دنیا بھر میں ادارے بلاک چین ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ اگرچہ پروجیکٹ اگورا فی الحال بڑے بینکنگ اداروں تک محدود ہے، لیکن یہ مستقبل میں بین الاقوامی ترسیلات زر اور تجارتی سیٹلمنٹ کے تیز اور سستے ہونے کا اشارہ ہے۔ پاکستان میں فی الحال سخت بینکنگ ضوابط اور ریگولیٹڈ فیاٹ ٹو کرپٹو گیٹ ویز کی محدود دستیابی کے باعث بین الاقوامی ٹرانزیکشنز میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر عالمی سطح پر یہ ٹوکنائزڈ معیارات رائج ہوتے ہیں، تو اس سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے رقوم کی منتقلی کے اخراجات میں کمی آ سکتی ہے، بشرطیکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایف بی آر ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے واضح فریم ورک تشکیل دیں۔

ادارہ جاتی اپنانے کا مستقبل

اگرچہ یہ پائلٹ ایک بڑی تکنیکی کامیابی ہے، لیکن مکمل طور پر ٹوکنائزڈ عالمی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ دنیا بھر کے ریگولیٹرز ابھی تک ٹوکنائزڈ ڈیپازٹس کے قانونی اثرات اور غیر مرکزی مالیاتی ڈھانچے سے وابستہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ BIS ان تجربات کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عالمی مالیاتی نظام کا استحکام برقرار رہے۔ جیسے جیسے بڑے ادارے ان حدود کو ٹیسٹ کر رہے ہیں، روایتی مالیات اور ڈیجیٹل اثاثوں کی معیشت کے درمیان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

عالمی بینکنگ اداروں کی جانب سے ٹوکنائزڈ سیٹلمنٹ کی جانب پیش قدمی کے پیش نظر، پاکستانی سرمایہ کاروں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ ادارہ جاتی تبدیلیاں مستقبل میں بین الاقوامی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی اور لاگت کو کیسے متاثر کرتی ہیں۔