ڈیجیٹل Won کا دائرہ کار بڑھانا

Bank of Korea نے اپنے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) کے پائلٹ پروگرام، جسے 'Project Hangang' کہا جاتا ہے، کی توسیع کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ Decrypt کی رپورٹس کے مطابق، یہ اقدام اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور اس میں شرکاء کی تعداد بڑھا کر 500,000 کر دی گئی ہے۔ یہ توسیع ایک ابتدائی آزمائش کے بعد کی گئی ہے جس میں کامیابی کے ساتھ 81,000 ڈیجیٹل والٹس کھولے گئے تھے، جن میں سے 42 فیصد صارفین نے ڈیجیٹل کرنسی کے ساتھ فعال مشغولیت کا مظاہرہ کیا۔

حقیقی معاشی نظام میں انضمام

ابتدائی مرحلے کے برعکس، جس کی توجہ بنیادی فعالیت اور انفراسٹرکچر کی جانچ پر تھی، دوسرا مرحلہ حکومتی فنڈز کی تقسیم متعارف کروا رہا ہے۔ یہ مصنوعی ماحول سے حقیقی معاشی افادیت کی جانب ایک اہم منتقلی ہے۔ Bank of Korea کا مقصد حکومتی ادائیگیوں کے لیے CBDC کا استعمال کرتے ہوئے ایک زندہ معاشی ماحول میں قومی ڈیجیٹل کرنسی کی کارکردگی، سیکیورٹی اور اسکیل ایبلٹی کا جائزہ لینا ہے۔

تکنیکی فریم ورک

یہ پائلٹ ایک ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی فریم ورک کا استعمال کرتا ہے جسے کمرشل بینکوں اور مرکزی بینک کے درمیان باہمی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حکام اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ سسٹم زیادہ حجم والے لین دین کو کیسے سنبھالتا ہے اور کیا یہ عروج کے اوقات میں استحکام برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ پروجیکٹ پروگرام ایبل رقم کی جانچ کے لیے ایک سینڈ باکس کے طور پر کام کر رہا ہے، جو بالآخر خودکار تعمیل اور عوامی شعبے کے اخراجات کے لیے تیز تر تصفیہ کے اوقات کی اجازت دے سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے زاویہ: عالمی CBDC رجحانات اور مقامی اثرات

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز اور وسیع تر مالیاتی شعبے کے لیے، جنوبی کوریا کا پائلٹ ریاستی حمایت یافتہ ڈیجیٹل اثاثوں کی جانب بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ماضی میں CBDC کی تلاش میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن موجودہ مقامی ضوابط غیر مرکزی کرپٹوز سے وابستہ خطرات کو دور کرنے پر مرکوز ہیں۔ پاکستانی صارفین کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ جیسے جیسے جنوبی کوریا جیسی بڑی معیشتیں CBDCs کو اپنا رہی ہیں، یہ بالآخر بین الاقوامی ترسیلات زر کے معیارات اور سرحد پار ادائیگی کے پروٹوکول کو متاثر کر سکتا ہے۔

تاہم، پاکستانی مارکیٹ پر اس کا فوری اثر بہت کم ہے، کیونکہ کوریا کا پائلٹ سختی سے مقامی ہے اور صرف اپنے شہریوں تک محدود ہے۔ غیر مرکزی اثاثوں کے پاکستانی ہولڈرز کو مقامی FBR اور PVARA کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ پاکستان میں ریگولیٹری ماحول مشرقی ایشیا میں آزمائے جانے والے ریاستی ڈیجیٹل کرنسی ماڈلز سے بالکل مختلف ہے۔ دیگر ممالک میں ڈیجیٹل فیاٹ کی طرف منتقلی اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک نجی ڈیجیٹل اثاثوں کے عروج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ

Bank of Korea ان 500,000 صارفین سے حاصل کردہ ڈیٹا کو ڈیجیٹل Won کے تکنیکی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر یہ پائلٹ کامیاب ثابت ہوتا ہے، تو یہ مکمل قومی سطح پر نفاذ کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جو ان دیگر مرکزی بینکوں کے لیے ایک مثال قائم کرے گا جو فی الحال تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی کا اندازہ صارفین کی شرح قبولیت اور موجودہ کمرشل بینکنگ ایپلی کیشنز میں CBDC کے ہموار انضمام سے لگایا جائے گا۔

پاکستانی قارئین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کے سرکاری تجربات بڑھ رہے ہیں، لہذا مقامی ریگولیٹری تبدیلیوں سے باخبر رہنا ضروری ہے۔