اہم اعلان
9 ستمبر کو ایپل نے اپنے تازہ ترین ہارڈویئر کا اعلان کیا، جس میں آئی فون 18 پرو، پرو میکس اور نیا فولڈ ایبل ڈیو شامل ہیں۔ بٹ کوائن ڈاٹ کام نیوز کے مطابق، سی ای او جان ٹرنس کی قیادت میں ہونے والی اس پریزنٹیشن میں بٹ کوائن، سٹیبل کوائنز یا بلاک چین پر مبنی ایپلی کیشنز کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ ایونٹ کی توجہ مکمل طور پر ہارڈویئر کی خصوصیات اور نئے فولڈ ایبل ڈیزائن پر مرکوز رہی، نہ کہ ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز پر۔
انڈسٹری کا تناظر اور ہارڈویئر
اگرچہ اس ایونٹ میں ڈیجیٹل اثاثوں کے انتظام پر کوئی بات نہیں کی گئی، لیکن نئے آئی فون لائن اپ میں ہارڈویئر کی بہتری تھرڈ پارٹی ڈویلپرز کے لیے موبائل سیکیورٹی کے طریقہ کار کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایپل نے کرپٹو سیکٹر کے حوالے سے محتاط رویہ برقرار رکھا ہے اور اپنی ترقیاتی کوششوں کو کیمرہ آپٹکس، بیٹری کی کارکردگی اور پروسیسنگ کی صلاحیتوں تک محدود رکھا ہے۔ ایپل نے بلاک چین ڈویلپرز کے لیے کوئی مقامی سپورٹ یا مخصوص ہدایات فراہم نہیں کی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ ڈیوائسز کرپٹو ہارڈویئر کے بجائے عام مواصلاتی ٹولز کے طور پر ہی کام کرتی رہیں گی۔
پاکستان کا تناظر
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، تازہ ترین آئی فون ماڈلز کا اجرا عالمی کنزیومر ہارڈویئر اور مقامی ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کے درمیان خلیج کی یاد دہانی ہے۔ یہ ڈیوائسز اکثر پاکستان میں مہنگی لگژری اشیاء کے طور پر درآمد کی جاتی ہیں۔ تاہم، یہ کرپٹو پورٹ فولیوز کے انتظام یا مقامی ریگولیٹری ماحول میں نیویگیٹ کرنے کے لیے کوئی خاص فائدہ فراہم نہیں کرتیں۔ پاکستان میں صارفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان ڈیوائسز پر ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی مکمل طور پر تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر والٹس پر منحصر ہے۔ مزید برآں، ان ماڈلز کی درآمدی لاگت کا ڈی سینٹرلائزڈ فنانس یا مقامی ایکسچینج پلیٹ فارمز تک رسائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) پاکستان میں ڈیجیٹل سرگرمیوں کو کنٹرول کرتے ہیں، لیکن ایسی کوئی سرکاری ریگولیٹری رہنمائی موجود نہیں ہے جو یہ بتائے کہ ہائی اینڈ ہارڈویئر ڈیجیٹل اثاثوں کی ملکیت کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرتا ہے۔
مارکیٹ کا نقطہ نظر
اس طرح کے ہائی پروفائل ایونٹ میں کرپٹو سے متعلق اعلانات کا نہ ہونا اس حقیقت کو تقویت دیتا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی مین اسٹریم کنزیومر الیکٹرانکس سے ایک الگ شعبہ ہے۔ سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو اسے اس اشارے کے طور پر دیکھنا چاہیے کہ ایپل ہارڈویئر کے ذریعے انٹیگریشن فی الحال کمپنی کی ترجیح نہیں ہے۔ انڈسٹری اسمارٹ فون مینوفیکچررز سے آزادانہ طور پر اپنا انفراسٹرکچر تعمیر کر رہی ہے۔
دستبرداری: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے مالیاتی مشورہ ہرگز نہ سمجھا جائے۔ قارئین کو سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے سے پہلے اپنی تحقیق خود کرنی چاہیے۔
پاکستانی قارئین کے لیے، نیا آئی فون 18 ایک پریمیم اسمارٹ فون ہے جو پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں کرپٹو ٹریڈنگ یا محفوظ اثاثوں کی اسٹوریج کے لیے کوئی اضافی سہولت فراہم نہیں کرتا۔

















