سیکیورٹی خلاف ورزی کا واقعہ
Allbridge Core، جو کہ ایک معروف کراس چین برج پروٹوکول ہے، نے یکم اپریل 2023 کو اپنے آپریشنز معطل کر دیے، کیونکہ ایک سیکیورٹی حملے کے ذریعے اس کے لیکویڈیٹی پولز سے تقریباً 1.65 ملین ڈالر نکال لیے گئے۔ Cointelegraph کے مطابق، حملہ آور نے فلیش لون کا استعمال کرتے ہوئے برج کے لیکویڈیٹی پولز میں موجود اسٹیبل کوائنز کی قیمت کو ہیرا پھیری کے ذریعے تبدیل کیا اور تیزی سے سویپ کر کے فنڈز حاصل کر لیے۔
اس حملے کا ہدف پروٹوکول کا ایکسچینج ریٹ میکانزم تھا، جس کی وجہ سے حملہ آور کو قیمت میں عدم توازن پیدا کرنے کا موقع ملا۔ Allbridge نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اس کی بنیادی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ صارفین کے اثاثوں کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔
حملے کی تکنیکی تفصیلات
سیکیورٹی محققین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے کراس چین برج کے ڈیزائن کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھایا، جو اکثر مختلف بلاک چین نیٹ ورکس کے درمیان اثاثوں کی منتقلی کے لیے لیکویڈیٹی پولز پر انحصار کرتے ہیں۔ ایک فلیش لون کا استعمال کرتے ہوئے، حملہ آور نے بہت کم وقت کے لیے بڑی مقدار میں سرمایہ حاصل کیا تاکہ پول کے پرائسنگ الگورتھم کو متاثر کر سکے۔
جب قیمت کو کافی حد تک تبدیل کر دیا گیا، تو حملہ آور نے تیز رفتار سویپس کا ایک سلسلہ چلایا جس سے 1.65 ملین ڈالر مالیت کے اسٹیبل کوائنز نکالنا ممکن ہوا۔ یہ واقعہ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کے انفراسٹرکچر میں موجود ان مسلسل خطرات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں اسمارٹ کانٹریکٹ کی منطق کو ایسے ماہرین نشانہ بنا سکتے ہیں جو لیکویڈیٹی پولز کے ریاضیاتی ماڈلز کو سمجھتے ہیں۔
جوابی کارروائی اور بحالی کی کوششیں
حملے کے بعد، Allbridge کی ٹیم نے آن چین میسجنگ کے ذریعے حملہ آور سے رابطہ کیا اور چوری شدہ فنڈز کی واپسی کے بدلے میں انعام کی پیشکش کی۔ DeFi کی دنیا میں اس طرح کی حکمت عملی عام ہو رہی ہے، کیونکہ پروٹوکولز طویل قانونی کارروائیوں کے بغیر اثاثے واپس حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگرچہ برج فی الحال بند ہے، ٹیم اپنے اسمارٹ کانٹریکٹس کا آڈٹ کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اسی طرح کی کمزوریوں کو روکا جا سکے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سروسز کی بحالی اور نقصانات کے ازالے کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات
پاکستان میں کرپٹو کے شوقین افراد کے لیے یہ واقعہ ڈی سینٹرلائزڈ برجز اور کراس چین پروٹوکولز کے استعمال سے وابستہ خطرات کی یاد دہانی ہے۔ اگرچہ بہت سے مقامی صارفین PKR کو کرپٹو میں تبدیل کرنے کے لیے مرکزی ایکسچینجز کا استعمال کرتے ہیں، لیکن جو لوگ DeFi ییلڈ فارمنگ یا کراس چین اثاثوں کی منتقلی میں ملوث ہیں، وہ براہ راست ان عالمی سیکیورٹی خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں فی الحال کوئی مخصوص ریگولیٹری فریم ورک موجود نہیں ہے جو DeFi ہیکس سے ہونے والے نقصانات کے خلاف تحفظ فراہم کر سکے، کیونکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو تجرباتی برج پروٹوکولز کے ساتھ تعامل کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ اسمارٹ کانٹریکٹ کے ذریعے ضائع ہونے والے فنڈز کی واپسی کے لیے کوئی مقامی قانونی راستہ موجود نہیں ہے۔
حتمی مشورہ
پاکستانی سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ سہولت کے بجائے سیکیورٹی کو ترجیح دیں، ہائی رسک DeFi برجز سے گریز کریں اور اپنے اثاثوں کو محفوظ نان کسٹوڈیل والٹس میں رکھیں۔














