4.7 ارب ڈالر کا سرمایہ کار خسارہ

کنزیومر ایڈوکیسی گروپ 'پبلک سٹیزن' کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسلک کرپٹو کرنسی منصوبوں کی مالی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان مختلف پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو مجموعی طور پر 4.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ 'دی بلاک' کی رپورٹ کے مطابق، جہاں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے، وہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سرگرمیوں سے ذاتی طور پر تقریباً 1.4 ارب ڈالر کمائے ہیں۔

مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ اور میم کوائنز کی کارکردگی

پبلک سٹیزن کے انکشافات کے باوجود، اس ایکو سسٹم میں شامل مخصوص اثاثے شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر، TRUMP میم کوائن کی قیمت میں حال ہی میں 20 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد اس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 705 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ 'بٹ کوائن ڈاٹ کام نیوز' کے مطابق، جمعہ کے روز یہ ٹوکن 3 ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ گیا تھا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحالی کے باوجود، سال بھر کی مجموعی کارکردگی کے مقابلے میں یہ اثاثہ اب بھی خسارے میں ہے۔

ورلڈ لبرٹی فنانشل اور سٹیبل کوائن کے خطرات

پبلک سٹیزن نے ٹرمپ فیملی سے منسلک پروجیکٹ 'ورلڈ لبرٹی فنانشل' کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ کے USD1 سٹیبل کوائن میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو تاحال بڑے نقصانات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جو اسے دیگر خسارے والے اثاثوں سے الگ کرتا ہے۔ رپورٹ میں پروجیکٹ کے بانیوں اور عام سرمایہ کاروں کے درمیان مالی فرق کو نمایاں کیا گیا ہے۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے اثرات

پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے یہ رپورٹس ہائی وولٹیج میم کوائنز اور مشہور شخصیات کے تعاون سے چلنے والے ڈیجیٹل اثاثوں سے وابستہ خطرات کی یاد دہانی ہیں۔ پاکستانی کرپٹو ہولڈرز، جو اکثر پیئر ٹو پیئر پلیٹ فارمز یا بین الاقوامی ایکسچینجز کے ذریعے مارکیٹ میں کام کرتے ہیں، انہیں ایسے پروجیکٹس سے محتاط رہنا چاہیے جن میں شفافیت کا فقدان ہو۔ اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) بدلتے ہوئے ٹیکس فریم ورک کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے، لیکن پاکستان میں بین الاقوامی میم کوائن سرمایہ کاری کے لیے کوئی مخصوص قانونی ضابطہ موجود نہیں ہے۔ مقامی سرمایہ کاروں کو سیکیورٹی اور مکمل تحقیق کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ قانونی تحفظ نہ ہونے کے باعث کسی پروجیکٹ کے ناکام ہونے کی صورت میں بین الاقوامی کرپٹو وینچرز سے فنڈز کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔

غیر مستحکم مارکیٹ میں احتیاط

پبلک سٹیزن کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ مالی فیصلوں کو سیاسی جذبات سے الگ رکھا جائے۔ جیسے جیسے کرپٹو مارکیٹ خبروں اور عوامی شخصیات کے بیانات پر ردعمل دیتی ہے، سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قیاس آرائیوں کے بجائے طویل مدتی بنیادوں پر توجہ دیں۔ پروجیکٹ کے بانیوں کی آمدنی اور عام سرمایہ کاروں کے نقصانات کے درمیان واضح فرق اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے میں سرمایہ کاری سے قبل گہرائی سے تحقیق ضروری ہے۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کو مشہور شخصیات کے تعاون سے چلنے والے کرپٹو پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ مقامی سطح پر ریگولیٹری نگرانی نہ ہونے کے باعث ایسے غیر مستحکم بازاروں میں ہونے والے مالی نقصانات کا کوئی مداوا موجود نہیں ہے۔