جدید دور میں تقسیم کاری کا خطرہ
ٹوکنائزڈ اسٹاکس عالمی منڈیوں میں ایکویٹی کی ملکیت اور منتقلی کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم، فیئرمنٹ (Fairmint) کے سی ای او جوریس ڈیلانو نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ یہ صنعت 1960 کی دہائی کے وال اسٹریٹ پیپر بحران کو دہرانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس دور میں، تجارتی حجم میں تیزی سے اضافے نے اس وقت کے دستی پروسیسنگ سسٹمز کو مفلوج کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں تصفیہ (settlement) میں شدید تاخیر اور آپریشنل افراتفری پیدا ہوئی تھی۔
کوائن ڈیسک (CoinDesk) کے مطابق، بنیادی تشویش مختلف بلاک چین پلیٹ فارمز کے درمیان متحد معیارات کی کمی ہے۔ اگرچہ ٹوکنائزیشن کارکردگی کا وعدہ کرتی ہے، لیکن ان سسٹمز کی تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ اثاثے اکثر ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر طریقے سے رابطہ نہیں کر پاتے۔ ایک مربوط انفراسٹرکچر کے بغیر، یہ صنعت ان رکاوٹوں کا شکار ہو سکتی ہے جنہوں نے وسط صدی کے بازار کے بحران کو جنم دیا تھا۔
مالیاتی تاریخ سے اسباق
1960 کی دہائی میں، پیپر بحران نے مالیاتی صنعت کو اپنے کلیئرنگ اور تصفیہ کے عمل کو جدید بنانے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں بالآخر ڈیپوزٹری ٹرسٹ کمپنی کا قیام عمل میں آیا۔ ڈیلانو کا کہنا ہے کہ موجودہ کرپٹو ایکو سسٹم کو بھی اسی طرح کی بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے۔ نجی اور الگ تھلگ لیجرز کا پھیلاؤ ٹوکنائزڈ ایکویٹیز کی ہموار نقل و حرکت کو روکتا ہے، جو ان ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعہ فراہم کردہ لیکویڈیٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
صنعتی ماہرین کا استدلال ہے کہ موجودہ ٹوکنائزیشن کے بیانیے میں باہمی ربط (interoperability) کا فقدان ہے۔ اگر مختلف پروٹوکولز اور ایکسچینجز الگ تھلگ کام کرتے رہے، تو تصفیہ میں ناکامی کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ یہ ایک ایسا منظرنامہ پیدا کرتا ہے جہاں اثاثے تکنیکی طور پر آن چین تو موجود ہوتے ہیں لیکن مختلف ادارہ جاتی ماحول میں ان کی تجارت یا منتقلی مشکل رہتی ہے۔
معیاری کاری کی جانب راستہ
ماضی کی ناکامیوں کو دہرانے سے بچنے کے لیے، ٹوکنائزیشن کے شعبے کو اوپن اسٹینڈرڈز اور ریگولیٹری ہم آہنگی کی ترقی کو ترجیح دینی ہوگی۔ ڈیلانو کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی مارکیٹ کی گہرائی اور لیکویڈیٹی کے مسئلے کو حل نہیں کر سکتی۔ اس کے بجائے، صنعت کو ایک ایسے مضبوط فریم ورک کی ضرورت ہے جو مختلف نیٹ ورکس کے درمیان ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کی محفوظ اور تصدیق شدہ منتقلی کی اجازت دے۔
بہت سے ادارے اب ہائبرڈ ماڈلز کی تلاش کر رہے ہیں جو روایتی کلیئرنگ میکانزم کو بلاک چین ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر پرانے مالیاتی سسٹمز اور ڈی سینٹرلائزڈ لیجر ٹیکنالوجی کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان معیارات کو اپنا کر، کمپنیاں ان آپریشنل نااہلیوں سے بچنے کی امید رکھتی ہیں جو ٹوکنائزڈ اسٹاکس کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اثرات
پاکستانی کرپٹو ہولڈرز کے لیے، ٹوکنائزڈ اسٹاکس کے اثرات اس مرحلے پر کافی حد تک بالواسطہ ہیں۔ اگرچہ عالمی منڈیاں ان اثاثوں کے ساتھ تجربات کر رہی ہیں، لیکن مقامی رسائی موجودہ ریگولیٹری منظر نامے اور ایسی مصنوعات پیش کرنے والے مجاز پلیٹ فارمز کی کمی کی وجہ سے محدود ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز BTC جیسے معیاری کرپٹو کرنسیوں کے مقابلے میں مختلف قانونی فریم ورکس کے تابع ہیں۔
مزید برآں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں پر محتاط موقف رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی ٹوکنائزڈ ایکویٹی مارکیٹوں تک رسائی مقامی بینکنگ چینلز کے ذریعے فی الحال ممکن نہیں ہے۔ سرمایہ کاروں کو ان پیچیدہ آلات تک رسائی کے لیے غیر ریگولیٹڈ آف شور پلیٹ فارمز کے استعمال کے خطرات سے ہوشیار رہنا چاہیے، کیونکہ انہیں پاکستان میں روایتی اسٹاک مارکیٹ کے شرکاء کو حاصل قانونی تحفظات میسر نہیں ہیں۔
آخر کار، اگرچہ ٹوکنائزڈ اسٹاکس عالمی مالیات کے مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں، لیکن پاکستانی سرمایہ کاروں کو مقامی ریگولیٹری تعمیل کو ترجیح دینی چاہیے اور جب تک ملکی حکام کی جانب سے واضح رہنما خطوط فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک قائم شدہ اثاثوں پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔













