بھارتی ڈیٹ مارکیٹس کا نیا باب

بھارت کی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ (SEBI) نے باضابطہ طور پر ٹوکنائزڈ بانڈز کے لیے ایک پائلٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت 107 ملین ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے جاری کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کو 'ڈی میٹ 2.0' (Demat 2.0) کا نام دیا گیا ہے، جو ملکی مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کی ایک اسٹریٹجک کوشش ہے۔

Cointelegraph کی رپورٹس کے مطابق، یہ پائلٹ پروجیکٹ ڈیجیٹل سیکیورٹیز کے شعبے میں مستقبل کی ترقی کے لیے ایک بنیادی قدم ہے۔ جاری کرنے کے عمل کو ڈیجیٹائز کر کے، ریگولیٹرز کا مقصد سیٹلمنٹ کے وقت کو کم کرنا اور بانڈ مارکیٹ میں شامل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے شفافیت کو بڑھانا ہے۔

رسائی اور ثانوی تجارت میں توسیع

اگرچہ ابتدائی مرحلے میں ادارہ جاتی شرکت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، لیکن SEBI نے اس پروجیکٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔ 'ڈی میٹ 2.0' فریم ورک کے مستقبل کے مراحل میں ثانوی مارکیٹ میں تجارت کی صلاحیتیں متعارف کرائی جائیں گی، جس سے ڈیجیٹل اثاثوں کی نقل و حرکت مزید آسان ہو جائے گی۔

مزید برآں، ریگولیٹر کا ارادہ ہے کہ بعد کے مراحل میں ان ٹوکنائزڈ بانڈز کو عام ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے بھی کھول دیا جائے۔ یہ اقدام کارپوریٹ اور سرکاری ڈیٹ آلات تک رسائی کو جمہوری بنا سکتا ہے، جو روایتی طور پر اعلیٰ داخلہ رکاوٹوں کی وجہ سے انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے مشکل رہے ہیں۔

علاقائی تناظر اور تکنیکی تبدیلی

ٹوکنائزیشن میں حقیقی دنیا کے اثاثوں کو بلاک چین پر ظاہر کرنا شامل ہے، جس سے فریکشنل اونر شپ اور اسمارٹ کانٹریکٹس کے ذریعے خودکار تعمیل ممکن ہوتی ہے۔ بھارت کا اس شعبے میں داخلہ ایک وسیع تر عالمی رجحان سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں مرکزی بینک اور مالیاتی حکام کیپٹل مارکیٹس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل لیجر ٹیکنالوجی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

روایتی کاغذی یا مرکزی ڈیجیٹل رجسٹریوں سے ہٹ کر، حکام دستی پروسیسنگ کی غلطیوں سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار اس تبدیلی کو ایک اہم ارتقاء قرار دیتے ہیں جس سے آنے والی دہائی میں خودمختار اور کارپوریٹ ڈیٹ کا انتظام کیا جائے گا۔

پاکستانی کرپٹو ہولڈرز پر اثرات

پاکستانی کرپٹو شائقین اور سرمایہ کاروں کے لیے، بھارت کا یہ پائلٹ پروجیکٹ ادارہ جاتی مالیات کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی علاقائی قبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں فی الحال اس ٹوکنائزڈ بانڈ اقدام کے مساوی کوئی براہ راست پروجیکٹ موجود نہیں ہے، لیکن یہ پیش رفت ایک معیار کے طور پر کام کرتی ہے کہ کس طرح پڑوسی معیشتیں ڈیجیٹل اثاثوں کو ریگولیٹڈ فریم ورکس میں ضم کر رہی ہیں۔

پاکستانی ہولڈرز کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اس طرح کی پیش رفت اکثر جنوبی ایشیائی ریگولیٹری رجحانات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ موجودہ کیپٹل کنٹرولز اور ریگولیٹری پابندیوں کی وجہ سے مقامی سرمایہ کار بھارتی بانڈ مارکیٹوں میں حصہ نہیں لے سکتے، تاہم ان پروجیکٹس کی کامیاب تکمیل بالآخر پاکستانی پالیسی سازوں کو بھی مقامی ڈیٹ مینجمنٹ کے لیے بلاک چین پر مبنی حل پر غور کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ فی الحال، پاکستان میں کرپٹو سرگرمیاں عالمی ایکسچینجز اور پیئر ٹو پیئر مارکیٹس تک محدود ہیں، جبکہ مقامی ریگولیٹری ادارے ڈیجیٹل اثاثوں کے انضمام کے حوالے سے محتاط موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ پڑوسی ممالک میں بلاک چین پر مبنی مالیاتی اصلاحات مستقبل میں مقامی ریگولیٹری فریم ورک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے کردار کو تبدیل کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔